فتح اللہ گولن کی تنظیم سے تعلق، 103 ترک فوجیوں کو گرفتار کرنے کا حکم
ترکی میں سنہ 2016ء کے دوران حکومت کے خلاف ناکام بغاوت میںملوث ہونے اور امریکا میں جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کے ساتھ تعلق کے الزام میں 103 فوجیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے "اناطولیہ" کے مطابق جن فوجیوں کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہےان پر شبہ ہے کہ وہ امریکا میں خود ساختہ زندگی گذارنے والے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے ساتھ تعلقات کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
جولائی 2016ء سے ترک حکومت کے خلاف فوج کے ایک گروپ نے بغاوت کردی تھی۔ اس بغاوت کے دوران 250 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ترکی کی حکومت اس بغاوت کا الزام فتح اللہ گولن پرعاید کرتے ہیں مگر وہ اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس نے ملک کے صوبوں میں تلاشی کے دوران 74 فوجی افسروں اور سپاہیوں کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار فوجیوں میں سے بعض کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائزہیں اور حاضر سروس ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتار فوجیوں نے بغاوت کے دوران ٹیلیفون کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے کیے تھے۔
-
ایران پراقتصادی پابندیوں میں ترکی کو تجارت کے لیے 25 فی صد چھوٹ
ترکی کے وزیر برائے توانائی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکا کی طرف سے عاید کردہ ...
بين الاقوامى -
ایران پر پابندیاں "خطرناک" ثابت ہوں گی: ترکی
ترکی نے ایران پر نئی پابندیوں کے پس منظر میں امریکا کو خبردار کیا ہے۔ ترک وزیر ...
بين الاقوامى -
ترکی میں ایرانی طیاروں کو ایندھن بھرے سے روک دیا گیا
ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق استبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی طیاروں کو ...
مشرق وسطی