پینٹاگان "سپر ٹروپر" فوج کی نئی نسل کیسے تیار کر رہا ہے؟

فوجیوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد دینے والا لباس تیار کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوج ٹکنالوجی کے بیرونی ڈھانچوں کی تیاری اور ان کے تجربات پر کروڑوں ڈالر کی رقم صرف کر رہی ہے۔ اس کا مقصد فوج کو انتہائی مضبوط اور فولادی اعصاب کی حامل بنانا اور محاذ جنگ پران کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹکنالوجی کے میدان میں فوج کی سرمایہ کاری "سُپر ٹروپر" فوج کی ایک نئی نسل کی تیاری کی مساعی کو آگے بڑھانا ہے اور اسے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنا ہے۔

امریکا میں دفاعی ٹکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی "لاک ہیڈ مارٹن" کینیڈا میں صدر دفتر رکھنے والی "بی ٹیمیا" کمپنی کے بعد ایسی دوسری بڑی فرم ہے جس نے بیرونی ڈھانچوں کی تیاری کے لیے ٹھیکہ لیا ہے۔ یہ کمپنیاں بیماریوں بالخصوص ہڈیوں کی شدید کمزوری جیسے اسباب پر قابو پانے کے لیے بیرونی ڈھانچوں کو اپ گریڈ کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

یہ بیرونی ڈھانچے جسمانی ساخت کے مطابق بنائے جا رہے ہیں جنہیں ایک سپاہی اپنی پینٹ کے اوپر پہن سکے گا۔ سینسر اور مصنوعی ذہانت ٹکنالوجی سے تیار کردہ یہ بیرونی ڈھانچے جسم کو حرکت کرنے میں مدد فراہم کریں ‌گے۔

فوج کی جانب سے اس نئی ٹکنالوجی کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ فوجی اس لیے بھی اس کے جواز کے حامی ہیں کیونکہ یہ ٹکنالوجی جنگ کے علاقوں میں تعینات کیے گئے فوجیوں کوہتھیاروں اور دیگر آلات کا بوجھ اٹھانے میں مدد فراہم کریں‌ گے۔ جنگ کے علاقوں میں تعینات فوجیوں کو بلٹ پروف جیکٹ پہننے کے ساتھ رات کے اوقات میں روئیت کے لیے دوربینیں اور جدید وائر لیس آلات شامل ہوتے ہیں جن کا وزن 40 سے 64 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ فوج کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ایک اہلکار کے پاس موجود سامان کا وزن 23 کلو گرام سے زاید نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نئی ٹکنالوجی فوجیوں کے پاس موجود سامان کا بوجھ ہلکا کرنے میں ان کی مدد کرے گی۔

امریکی قومی سلامتی مرکز کے پال شارنے بیرونی ڈھانچوں کی ریسرچ کے لیے فوج کی مدد کی ہے جس کے نتیجے میں اس نئی ٹکنالوجی کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونی ڈھانچوں کو لباس کی طرح پہنا جا سکے گا اور اس کے بعد فوجیوں کو میدان جنگ میں جانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مشکل پیادہ فوج کے حوالے سے ہے جو بھاری بوجھ اٹھا کر چلنے پر مجبور ہوتی ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن نے جمعرات کو ناٹیک ریسرچ اینڈ ملٹری انجینیرنگ اپ گریڈنگ سینٹر کے ساتھ 6 اعشاریہ نو ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا۔ اس ڈیل کا مقصد "اونیکس" کے نام سے فوجیوں‌ کے لیے نئے بیرونی ڈھانچے تیار کرنا ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن میں بیرونی ڈھانچوں کی ٹکنالوجی کے ڈائریکٹر" کیتھ ماکسویل" نے کہا کہ "بیرونی ڈھانچے آپ کو میدان جنگ میں سہولت کے ساتھ جانے کا موقع فراہم کریں‌ گے"۔

خیال رہے کہ فوجیوں کے لیے بیرونی ڈھانچے تیار کرنے والا امریکا پہلا ملک نہیں، اس سے قبل چین اور روس بھی اس طرح کی ٹکنالوجی پر کام کررہےہیں۔ اطلاعات کے مطابق روس نے شام میں تعینات کیے گئے اپنے فوجیوں کے لیے اس طرح کی ٹکنالوجی کا باقاعدہ استعمال بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں