.

ایرانی اربابِ اقتدار کی آل اولاد کو امریکا سے بے دخل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں موجود ایرانی ارباب اقتدار کے بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کو بے دخل کرے۔

امریکی ٹی وی چینل"اے بی سی" نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکا کے کئی موثر خاندانوں اور شخصیات نے واشنگٹن سے ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں اور دیگر افراد کو ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایران نے ہمارے کئی شہریوں کو جیلوں میں‌ڈال رکھا ہے اور دوسری طرف ہم ان کے بیٹوں اور آل اولاد کے نخرے اٹھا رہے ہیں۔ اگر ایران ہمارے شہریوں‌کے ساتھ بدسلوکی کا مرتکب ہے تو ہمیں بھی ایرانیوں کے قریبی رشتہ داروں اوران کے بیٹوں کو ملک سے نکال باہر کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں کے حوالے سے پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اورکہا کہ ہم نے ایرانیوں کے بیٹوں کو نہ صرف تعلیم بلکہ اپنے ہاں روزگار کی بھی سہولیات دیں مگر اس کے جواب میں ایرانی رجیم نے ہمیں کیا دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی جیلوں میں قید امریکیوں کے اہل خانہ حکومت پر سخت برہم ہیں۔ انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بیٹوں کی رہائی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کرسکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرنپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بن کر ان کے خاندان کے افراد کو ایرانی جیلوں سے رہائی دلائیں گے مگرایسانہیں کیا جاسکا۔

صحافتی ذرائع کے مطابق تقریبا 4 امریکی اس وقت ایران کی جیلوں میں مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک الزام جاسوسی کا عاید کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے مبصرین کا کہناہے کہ ایرانی عقوبت خانوں میں قید امریکیوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔

امریکیوں‌نے ایرنی عہدیداروں کےاقارب کے ویزے منسوخ کردینے چاہئیں تاکہ چالیس سال سے ایران میں قید ان کے افراد کی رہائی کے لیے تہران پر دبائو ڈالا جاسکے۔

ایران میں قید امریکیوں کے اہل خانہ نے حال ہی میں کانگریس کے ارکان کو بھی شکایت کی ہے۔ انہوں نے امریکا میں مقیم ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں اور کہا کہ ان میں سے بیشتر ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی اولاد ہیں۔ ان میں نائب صدر اور ایران کی ماحولیاتی کمیٹی کی چیئرپرسن کا بیٹا بھی شامل ہے۔