.

الجزائری فوج کی ریٹائرڈ جنرلوں کو قانونی چارہ جوئی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں وزارت دفاع نے فوج کے ریٹائرڈ جنرلوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عسکری ادارے کے نام سے بات کرنے اور انتخابی استحقاق کے حوالے سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھانے سے گریز کریں۔ اتوار کے روز جاری بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ ان امور کے مرتکب عناصر کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

وزارت دفاع نے اپنے بیان میں اُن ریٹائرڈ عکسری اہل کاروں پر شدید نکتہ چینی کی ہے جنہوں نے اخباری مضامین میں اپریل 2019 میں مقررہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے عسکری ادارے کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق یہ لوگ بد نیتی کی بنیاد پر متحرک ہوئے۔

وزارت دفاع نے فوج کے ان ریٹائرڈ افراد کو ایسا نیچ اور تنگ نظر انسان قرار دیا جو رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور اپنے پروپیگنڈے کو درست ثابت کرنے کے لیے غیر شفاف ذرائع استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

وزارت دفاع کا یہ موقف حالیہ عرصے میں فوج کے ریٹائرڈ اہل کاروں کے اخباری بیانات اور مضامین کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ بالخصوص ریٹائرڈ جنرل علی غدیری کے نومبر کے اواخر میں الوطن اخبر میں شائع ایک مضمون جس میں فوج کی سینئر قیادت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ملک میں آگ لگ جانے سے پہلے مداخلت کریں۔

غدیری نے اسی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے رواں ہفتے یہ بھی کہا کہ ملک کے نائب وزیر دفاع اور فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل احمد قائد صالح انتخابات کے التوا کے لیے آئین کی خلاف ورزی یا اس کے ساتھ کھلواڑ کی کسی طور بھی اجازت نہیں دیں گے۔ غدیری کے مطابق "ممکن ہے کہ صالح بہت سے امور میں مصلحت پسند ہو لیکن جہاں قوم اور ملکی استحکام کا معاملہ ہو وہاں وہ مجاہد بن جائیں گےزوہ ان لوگوں کا کھیل نہیں کھیل سکتے جو پہلے سے قومی مفاد کے خلاف خواہشات پوری کرتے چلے آ رہے ہیں"۔

الجزائر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ "فوج کے ریٹائرڈ افراد جو مواقف پیش کر رہے ہیں وہ ان کی حقیقی نیتوں کو واضح طور عیاں کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ملکی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے بعض عناصر اُن ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کا قصد رکھتے ہیں جن کو وہ عسکری ادارے میں رہتے ہوئے پورا نہ کر سکے"۔

وزارت دفاع کے مطابق انتقام کی ہوس نے ان ریٹائرڈ عسکری اہل کاروں کو اس حال تک پہنچا دیا کہ وہ اُن امور کا بھی تحفظ نہیں کر رہے ہیں جن کی پابندی ان کے لیے لازم ہے۔ لہذا متعلقہ قانونی ایکٹ کے تحت ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔