.

یمن: العند اڈے پر حملے میں ملوّث سینیر فوجی افسر سمیت حوثی باغیوں کا سیل پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی وزارتِ داخلہ نے حوثی ملیشیا کے دہشت گردی کے ایک سیل کے ارکان کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گرفتار افراد میں یمنی فوج کا ایک اعلیٰ افسر بھی شامل ہے۔یہ سیل گذشتہ جمعرات کو صوبہ لحج میں واقع العند میں یمنی فوج کے اڈے پر ایک پریڈ کے دوران میں ڈرون حملے میں ملوّث تھا۔

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ احمد المصری اور صوبہ لحج میں سکیورٹی کے سربراہ بریگڈئیر جنرل صالح السید نے منگل کے روز ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس سیل کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق حوثیوں کا دہشت گردی کا یہ سیل عدن ، لحج اور دوسرے آزاد کرائے گئے علاقوں میں تخریب کاری اور تشدد کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ وزارت داخلہ نے گرفتار اعلیٰ فوجی افسر کا نام نہیں بتایا ہے ۔البتہ اس کا کہنا ہے کہ وہ فوجی پریڈ پر ڈرون حملے سے 15 منٹ قبل وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔

احمد المصری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کے اس سیل کے ارکان کو عدن سے شمال میں واقع صوبہ لحج میں گذشتہ چند روز کے دوران میں گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے تفتیش کے دوران میں عدن میں سکیورٹی اور فوجی حکام پر قاتلانہ حملوں اور بم حملو ں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

گرفتار حوثی دہشت گردوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ انھیں دارالحکومت صنعاء اور ضامر میں حوثی عسکری ماہرین نے تربیت دی تھی اور انھیں یمنی فوج کے کنٹرول والے علاقوں میں قاتلانہ حملوں اور بم حملوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

یمنی وزیر داخلہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس سیل کے ارکان العند کے فوجی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے میں ملوّث تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں یمنی فوج کے متعدد اعلیٰ افسر اور فوجی جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔