.

’’شمالی شام میں خودکش حملہ کے باوجود، واشنگٹن شام سے فوج واپس بلا لے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس کے سینئر عہدے داران کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے شہر منبج میں بین الاقوامی اتحاد کی پیٹرولنگ پارٹی پر حملے کے بعد بھی شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے واپس لیے جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مذکورہ حملے میں دو امریکی فوجی، پینٹاگان کا ایک سول ملازم اور ایک کنٹریکٹر مارا گیا۔ حملے کی ذمے داری داعش تنظیم نے قبول کی تھی۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کارروائی میں چار امریکی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ انٹرنیٹ پر ’’اعماق‘‘ نامی ویب سائٹ پر جاری بیان میں داعش تنظیم نے کہا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری کے مطابق دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی۔

یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے تقریبا ایک ماہ بعد ہوا۔ شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار کے قریب ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے وزیر دفاع جیمز میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دس ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جب منبج شہر میں بین الاقوامی اتحادی افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔