’’شمالی شام میں خودکش حملہ کے باوجود، واشنگٹن شام سے فوج واپس بلا لے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

وہائٹ ہاؤس کے سینئر عہدے داران کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے شہر منبج میں بین الاقوامی اتحاد کی پیٹرولنگ پارٹی پر حملے کے بعد بھی شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے واپس لیے جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مذکورہ حملے میں دو امریکی فوجی، پینٹاگان کا ایک سول ملازم اور ایک کنٹریکٹر مارا گیا۔ حملے کی ذمے داری داعش تنظیم نے قبول کی تھی۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کارروائی میں چار امریکی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ انٹرنیٹ پر ’’اعماق‘‘ نامی ویب سائٹ پر جاری بیان میں داعش تنظیم نے کہا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری کے مطابق دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی۔

یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے تقریبا ایک ماہ بعد ہوا۔ شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار کے قریب ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے وزیر دفاع جیمز میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دس ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جب منبج شہر میں بین الاقوامی اتحادی افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں