سوڈانی اپوزیشن رہ نما الصادق المہدی نے بھی حکومت کو گھر بھیجنے کی تائید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں ایک اہم ترین اپوزیشن رہ نما الصادق المہدی نے سرکاری طور پر ملک میں مظاہروں کے لیے اپنی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج کنندگان کی ہلاکتوں کو مسترد کر دیا ہے۔

جمعے کے روز اپنے خطاب میں المہدی نے کہا کہ آزادی اور تبدیلی کے اعلامیے پر 20 سیاسی اور شہری حقوق کے گروپوں کی جانب سے دستخط کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سوڈانی معاشرے کی نمائندگی کرنے والے 100 افراد اس اعلامیے کو پارلیمنٹ کے حوالے کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر کے مطابق حکومت کے رخصت ہونے کے مطالبے کے لیے سوڈان کے اندرون اور بیرون 100 مظاہروں کا انعقاد ہو گا۔

المہدی نے حکومت کے ذمے داران سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور بے قصور افراد کا خون نہ بہائیں۔

المہدی نے باور کرایا کہ میثاق الخلاص کے اہم ترین مطالبات میں حکومت کا جانا اور منصفانہ امن کو یقینی بنانے کے لیے ایک عبوری حکومت کا تشکیل دیا جانا شامل ہے۔

دوسری جانب سوڈان میں پروفیشنلز ایسوسی ایشن کے مطالبے پر جمعے کے روز نماز کے بعد عام مظاہروں کا انعقاد ہوا۔ اس کے علاوہ ایوسی ایشن نے مختلف مقامات پر دھرنوں اور رات کے مظاہروں کی بھی کال دی۔

جمعرات کے روز درالحکومت خرطوم میں ہونے والے وسیع احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ نے سوڈان میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال سمیت کسی بھی صورت میں تشدد سے گریز کریں۔

ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان کے نائب فرحق حق نے باور کرایا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ پر امن مظاہرے عوام کا حق ہیں۔ انہوں نے سوڈانی حکام سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران اموات اور پرتشدد کارروائیوں کی جامع تحقیقات کرائی جائیں۔

یاد رہے کہ سوڈان میں حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے اعلان کے بعد 19 دسمبر 2018 سے ملک کے مختلف حصوں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اقتصادی بحران کے بیچ شروع ہونے والے مظاہروں کے شرکاء کے مطالبات نے اب سیاسی صورت اختیار کر لی ہے اور وہ صدر عمر البشیر کی سبک دوشی اور ایک نئی حکومت کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں