.

تھریزا مے کا مسائل کے باوجود یورپی یونین سے بروقت بریگزٹ کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم تھریزا مے نے یورپی لیڈروں سے بات چیت کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کی طلاق ( بریگزٹ) کا عمل بروقت مکمل کر لیں گی۔

تھریزا مے کے یورپی یونین سے مذاکرات کے نتیجے میں طے شدہ سمجھوتے پر برطانوی دارالعوام کے ارکان نے سخت اعتراضات کیے ہیں اور وہ اس میں ترمیم چاہتے ہیں مگر اس کے باوجود مے کا کہنا ہے کہ ’’ وہ 29 مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل ترتیب وار علاحدگی کا عمل مکمل کر لیں گی ۔البتہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں آیندہ دنوں میں اس مقصد کے لیے جاں فشانی سے مذاکرات کررہی ہوں ۔میں اس بات میں واضح ہوں کہ مجھے بریگزٹ کو عملی جامہ پہنانا ہے اور میں اس کو بروقت کرنے جارہی ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم تھریزا مے کو یورپی یونین سے آئرلینڈ کے ساتھ سرحد کے انتظامات میں تبدیلی کے لیے ازسرنو مذاکرات کی ہدایت کی تھی جبکہ یورپی تنظیم نے ایک مرتبہ پھر برطانیہ سے بریگزٹ پر کسی نئی بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا تھا ۔

سرمایہ کار اور اتحادی برطانوی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جلد سے جلد یورپی تنظیم سے منظم انداز میں اخراج کے لیے کوئی نیا معاہدہ کرلے۔گذشتہ ماہ دارالعوام نے کثرت رائے سے تھریزا مے کی بریگزٹ ڈیل کو مسترد کردیا تھا۔برطانیہ کی جدید تاریخ میں کسی حکومت کی پارلیمان میں یہ سب سے بڑی شکست تھی۔

برطانوی پارلیمان کے ارکان کی اکثریت آئرلینڈ اور برطانیہ کے صوبے شمالی آئیرلینڈ کے درمیان سرحد پر پہلے سے طے شدہ ڈیل میں وضع کیے گئے انتظامات میں ترمیم کا مطالبہ کرر ہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آئرلینڈ میں نئے سرحدی انتظامات کو متعارف کرنے سے بچنے کے لیے ان کی تجویز تسلیم کر لی جاتی ہے تو وہ پھر وزیراعظم کی بریگزٹ ڈیل کی حمایت کریں گے۔

تاہم یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔اس پر تنظیم کے ستائیس رکن ممالک کے لیڈروں نے دست خط کررکھے ہیں۔نیز ’’ بیک اسٹاپ‘‘ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک ضمانت کے طور پر ضروری ہے کہ آئرلینڈ اور برطانوی صوبے شمالی آئرلینڈ کے درمیان ’’سخت بارڈر‘‘ کی واپسی نہیں ہوسکتی۔