.

بچے نے موقرامریکی اخبار'واشنگٹن پوسٹ' کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک بچے نے مشہور اخبار'واشنگٹن پوسٹ' کے خلاف شہرت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عدالت میں 20 کروڑ ڈالر سے زاید ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ریاست 'کنٹاکی' کے شہر 'کوفینگٹن' کے رہائشی انٹرمیڈیٹ کے طالب علم 16 سالہ نیکولس سینڈمن نے گذشتہ منگل کو عدالت میں 'واشنگٹن پوسٹ' کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اخبار پر شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 20 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔

اخبارنے رواں سال جنوری میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ مذکورہ طالب علم نے امریکا کے اصل باشندوں کے ایک سماجی کارکن کے خلاف نسل پرستانہ اور نفرت کو ہوا دینے کے کا اقدام کیا کرتے ہوئے اس کی تصویر تیار کی تھی۔ یہ شخص ویت نام میں امریکی فوج میں شامل رہا اور امریکا کے اوماھا قبیلے کا اہم رہ نما تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریڈ انڈینز کے یوتھ اتحاد کا سابق صدر بھی تھا۔

خیال رہے کہ جتنی رقم واشنگٹن پوسٹ کے خلاف ہرجانے کے دعوے میں طلب کی گئی ہے اتنی ہی اتنی رقم امازون فائونڈیشن کےسربراہ جیو بیزوس نے سنہ2013ء میں اس اخبار کی خریداری پر صرف کی تھی۔

عدالت میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہےکہ اخبار نے ایک بچے کے خلاف غلط انداز میں رپورٹنگ کی اور بچے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب داری کا مظاہرہ کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا۔ اس کے علاوہ اسے اس لیے بدنام کیا گیا کیونکہ مذہبی طورپر اس کا تعلق سفید فام کیھتولک فرقے سے ہے جو صدر کے'امریکا کی عظمت پھر سے بحال کرو' مہم کا حامی ہے۔

ادھر واشنگٹن پوسٹ کے ٹیلی کام شعبے کی وائس چیئرپرسن کریسٹن کوراٹی کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم عدالت میں دائر کردہ دعوے پرغور کررہےہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اس سے زیادہ طاقت ور دعویٰ کرنے کی بھی تیاری کررہےہیں۔

انہوں‌نے لڑکے کی طرف سے شہرت کو نقصان پہنچانے کے دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسے افریقی نژاد ناتھان فیلیپس نامی سماجی کارکن سامنے تمسخر آمیز انداز میں مسکراتے دیکھا گیا تھا جو اس کےساتھ نفرت کا برملا اظہار تھا۔