.

بوتفلیقہ کا پانچویں مرتبہ صدر بننے کے بعد ایک سال میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان

الجزائر کے علاوہ پیرس اور مارسیلی میں بھی بوتفلیقہ کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عبدالعزیز بوتفلیقہ اپریل میں پانچویں مرتبہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ایک سال کے اندر الجزائر میں نئے صدارتی انتخابات کرائیں گے جن میں ان کے ممکنہ جانشین کا انتخاب کیا جائے گا اور وہ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

علیل بوتفلیقہ کی انتخابی مہم کے مینجر عبدالغنی زعلان نے ان کے بہ طور صدارتی امیدوار آئینی کونسل کے ہاں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد ایک نشری بیان میں یہ اطلاع دی ہے اور ایک طرح سے اس امر کی بھی تصدیق کردی ہے کہ وہ 18 اپریل کو ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے خواہاں ہیں۔

الجزائر میں عبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں مدتِ صدارت کے لیے امیدوار بننے کے خلاف احتجاجی تحریک زور پکڑ رہی ہے مگر ان کی جانب ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اتوار کو دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں کے علاوہ فرانس میں مقیم ہزاروں الجزائریوں نے دارالحکومت پیرس اور مارسیلی میں بوتفلیقہ کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

الجزائر میں صدر بوتفلیقہ کے خلاف دس روز قبل احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔اس تحریک میں منقسم حزب اختلاف ، شہری گروپ اور طلبہ پیش پیش ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا کوئی لیڈر ہے اور نہ یہ منظم ہے۔اس لیے حکومت اس کے دباؤ کا شکار ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

الجزائری دارالحکومت میں دستوری کونسل کے نزدیک واقع ایک جامعہ کے اندر سیکڑوں طلبہ نے مظاہر کیا ہے انھوں نے صدر کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ عینی شاہدین نے دارالحکومت میں اعلیٰ تعلیم کے دوسرے اداروں میں بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاع دی ہے۔دستوری کونسل کے ارد گرد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفر ی تعینات تھی اور پولیس نے طلبہ کو کیمپس کی حدود سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔

صدر بوتفلیقہ کے مد مقابل انتخاب لڑنے کے لیے ایک ریٹائرڈ جنرل علی غدیری نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ ایک نئی صبح کا آغاز ہوچکا ہے‘‘۔انھوں نے الجزائری فوج ، حکمراں جماعت اور کاروباری لیڈروں کو بھی چیلنج کیا ہے۔

حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز بوتفلیقہ کے طبی طور پر تن درست ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ان کے نام پر ان کے مشیر حضرات حکومت چلا رہے ہیں۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر کی علالت کے باوجود اقتدار پر مضبوط گرفت برقرار ہے اور اہم فیصلے وہی کرتے ہیں۔ علیل بوتفلیقہ گذشتہ اتوار کو اپنی طبی معائنے کے لیے سوئٹزر لینڈ پرواز کر گئے تھے ۔الجزائری ایوان صدر نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ صدارتی انتخابات سے قبل معمول کے چیک اپ کے لیے گئے تھے۔

الجزائر کے سرکاری کے علاوہ نجی میڈیا کو بھی حزب اختلاف کے صدر کے خلاف مظاہروں کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔ حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا مالکان نے از خود ہی ان حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔سرکاری میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے بھی اس پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے مینجروں نے ریلیوں کی خبریں دینے پر پابندی عاید کردی ہے۔