.

جنیوا میں 'الغفران' قبیلے نےقطری حکومت کو کیسے شرمندہ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں قطری حکومت کےجبر وستم کے شکار الغفران قبیلے کے ارکان اور ان کے حامیوں نے دوحہ کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا۔

العربیہ کےمطابق جنیوا میں قائم کانفرنس ہیڈ کواٹر میں'صلتک فائونڈیشن' کا اہم اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کے موقع پر الغفران قبیلے کے ارکان اور حامیوں نے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔

بین الاقوامی کانفرنس سینٹر کے ملازمین نے بتایا کہ قطری فائونڈیشن کی خاتون سربراہ الشیخہ موزا المسند کانفرنس ہال میں تھیں جب باہر قطری حکومت کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ الشیخہ موزا نے کہا کہ جب تک الغفران قبیلے کےمظاہرین راستے سے ہٹ نہیں جاتے وہ باہر نہیں جائیں گی۔ ملازمین نے مظاہرین کو راستے سے ہٹایا جس کے بعد قطری فائونڈیشن کی عہدیدار اور دیگر افراد باہرنکلے۔

خیال رہے کہ الشیخہ موزا المسند نے کانفرنس میں قطری فائونڈیشن 'صلتک' کی دنیا کے مختلف ملکوں میں خدمات پر روشنی ڈالی۔ یہ تنظیم بیرون ملک خاندانی بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔

ان کی جنیوا موجودگی پر الغفران قبیلے کے لوگوں‌نے اپنے ساتھ قطری حکومت کی زیادتیوں پر آواز بلند کرنے کے لیے مظاہرہ کیا۔ الغفران قبیلہ کئی سال سے قطر میں زیرعتاب ہے۔ اس کے بہت سے لوگ ملک بدر کیے گئے ہیں اور جو ملک میں موجودہیں انہیں سرکاری ملازمتوں اور دیگر مراعات میں حصہ نہیں دیا جاتا۔