کینیڈا کی تعمیراتی کمپنی کا اسکینڈل، وزیراعظم ٹروڈو کو عہدہ کھو دینے کا خطرہ درپیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا میں کئی ہفتوں سے جاری بدعنوانی کے اسکینڈل نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اس کی قیمت اپنے منصب سے ہاتھ دھونے کی صورت میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔

مذکورہ اسکینڈل کا تعلق کینیڈا کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی SNC-Lavalin سے ہے جو معمر قذافی کے دور میں لیبیا میں منصوبوں پر عمل درامد کے دوران بدعنوانی میں ملوث رہی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ٹھیکوں کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے لیبیا کے حکام کو رشوت ادا کی تھی۔

اس بحران کے سامنے آنے پر کینیڈا کی مالیاتی کونسل کی سربراہ Jane Philpott اور وزیراعظم ٹروڈو کے مشیر Gerald Butts مستعفی ہو گئے ہیں۔

کینیڈا کی سابق اٹارنی جنرل Jody Wilson-Raybould بھی اسی اسکینڈل کے سبب اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں پارلیمنٹ کے سامنے بطور گواہ اپنا بیان پیش کیا۔

جوڈی ولسن نے ٹروڈو اور ان کے معاونین پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جوڈی پر دباؤ ڈالا تا کہ وہ مذکورہ کمپنی کے ساتھ تصفیے کے معاہدے کو قبول کر لیں اور کمپنی پر عائد بدعنوانی کے الزامات سے صرف نظر کر لیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق جوڈی ولسن نے بتایا کہ ٹرودو اور ان کے معاونین نے کئی ماہ تک انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ کینیڈا کی کمپنی کے خلاف عدالتی کارروائی کے نتیجے میں بہت سے لوگ اپنی ملازمتوں اور حکومت اپنے ووٹروں سے سے ہاتھ دھو سکتی ہے۔ جوڈی ولسن کے مطابق انہیں اندرون خانہ دھمکیاں بھی ملیں جن کے سبب آخرکار وہ اپنے منصب سے سبک دوش ہو گئیں۔

ٹروڈو نے جنوری میں وزیر انصاف جوڈی ولسن ریبولڈ کو ان کے منصب سے منتقل کر کے سینئر عکسری اہل کاروں کے امور کا نگراں بنا دیا تھا۔ اس کے چند ہفتوں بعد خاتون وزیر نے اپنے منصب سے استعفا دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں