.

ایردوآن کی جماعت فسطائیت کو قانونی شکل دے رہی ہے : اپوزیشن لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے رکن پارلیمںٹ اور ملک کی ایک بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے شریک چیئرمین Sezai Temelli نے رواں ماہ کے اواخر میں مقررہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ "ان انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں جو بڑی اہمیت کے حامل امور ہیں وہ ملک میں جمہوریت کا تعطل اور رکن پارلیمنٹ لیلی گوفن ہیں جنہوں نے تین ماہ سے زیادہ عرصے سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے"۔

کردوں کی ہمنوا جماعت کے چیئرمین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں دو جماعتوں (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) اور (نیشنل موومنٹ) کے اتحاد کا مقابلہ کرنا ہے جو مل کر فسطائیت پر ریاستی مہر ثبت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نزدیک ان دونوں جماعتوں کا اتحاد ترکی اور مشرق وسطی میں امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس خطرے کو ختم کرنے کے واسطے ہم مقامی انتخابات میں اپنا کام جاری رکھیں گے"۔

تیمیلی نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ اور نیشنل موومنٹ کے درمیان نسل پرست شراکت داری کی بنیاد پر قائم اتحاد کو ترکی کی سرزمین پر بسنے والے تمام لوگوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس اتحاد کی سنگین شکست کی صورت میں اس خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہم خطے کے تمام کردوں، عرب اور ترکوں کے واسطے راحت لے کر آئیں گے"۔

تیمیلی کے مطابق آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 کے انتخابات میں ان کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے پِیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے ساتھ مل کر 105 بلدیاتی حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کے مطابق ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے کچھ عرصہ قبل ملک کے مغربی علاقوں سے پولیس اہل کاروں اور فوجی اہل کاروں کو لا کر ان کا بطور ووٹر اندراج کرایا۔

تیمیلی کا کہنا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد جنہوں نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارتی کے حق میں ووٹ دیا تھا اب پارٹی سے علاحدہ ہو چکے ہیں۔ اسی واسطے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے وطن پرستانہ پالیسیوں کا سہارا لیا ہے تا کہ وہ ملکی تاریخ میں کردوں کے معاند سب سے بڑے رہ نما بن جائیں۔ اس ذہنیت کے خاتمے کے لیے ہم سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں ہم بڑی کامیابی حاصل کریں گے"۔

یاد رہے کہ 1963 میں استنبول میں جنم لینے والے سیزائے تیمیلی کو 2016 میں اس وقت کے ایمرجنسی کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے اساتذہ کی انجمن سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے 1985 میں استنبول یونیورسٹی سے معیشت میں ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر استنبول یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کی فیکلٹی میں تدریسی کونسل کے رکن بن گئے۔ وہ اس وقت بروین بولدان کے ساتھ مشترکہ طور پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں۔