.

پاکستان سمیت دنیا بھر سے نیوزی لینڈ کی 2مساجد پر حملوں کی مذمت

رابطہ عالم اسلامی اور الازہر الشریف نے بھی افسوسناک دہشت گردی پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے نیوزی لینڈ کی 2مساجد پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے 11ستمبر کے حملے کے بعد دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات(اسلامو فوبیا)کا شاخسانہ قرار دیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔اس کے ساتھ ان گھنانے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے معصوم جانوں کے زیاں پر تعزیت بھی کی اور اہلِ خانہ سے ہمدری کا اظہار کیا۔

رابطہ عالم اسلامی نے بھی اس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔ عالم اسلام کی تاریخی درسگاہ اور دارالافتاء الازہر الشریف کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کو انسانیت سوز اقدام قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پربیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے افسوسناک دہشت گردی کے واقعے کی سخت مذمت کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے نیوزی لینڈ میں موجود پاکستانیوں کی خیریت کے بارے میں جاننے کے لیے اہل خانہ کو پاکستانی ہائی کمیشن میں سید معظم شاہ سے رابطہ نمبر +64 21 779 495 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔جبکہ اس حوالے سے میڈیا معلومات کے حصول کے لیے اسلام آباد میں موجود ترجمان سے رابطہ کرنے کا کہا۔ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمارا ہائی کمیشن مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔

نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملے کی مذمت سامنے آرہی ہے جس میں دنیا کی سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا نے بھی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کے مطابق حملے کے وقت 6 انڈونیشی النور مسجد میں موجود تھے جن میں سے 3 افراد فائرنگ سے محفوظ رہے جبکہ ہم دیگر 3 افراد کو تلاش کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویلنگٹن میں موجود انڈونیشیئن سفارتخانہ مقامی حکام کے تعاون سے ایک ٹیم کرائسٹ چرچ روانہ کردی، انہوں نے بتایا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں مجموعی طور پر 330 انڈونیشی شہری موجود ہیں جس میں 130 طالبعلم ہیں۔

ترک صدر طیب اردوان نے اس افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔برطانوی سیکریٹری خارجہ جرمی ہنٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مساجد میں ہونے والے حملوں پر نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔اس کے علاوہ ملائیشیا کی سب سے بڑی حکومتی اتحادی جماعت نے اس حملے میں ایک ملائیشین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ سانحہ قرار دیا۔

ادھر بھارت کے آل انڈیا مسلم کونسل کے بانی کمال فاروقی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمان مخالف رجحان قرار دیا۔