.

نیوزی لینڈ میں نمازیوں کا قاتل دہشت گرد دو بار ترکی گیا: ترک عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک سینیر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں‌ دسیوں نمازیوں کو شہید اور زخمی کرنے میں ملوث شخص متعدد بار ترکی گیا اور وہاں طویل وقت تک قیام کیا۔

ترک عہدیدار نے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل "TRT" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیوزی لینڈ میں نمازیوں کو شہید کرنے والا دہشت گرد 13 ستمبر 2016ء کو ترکی گیا۔ ترک حکام کا کہناہے کہ نیوزی لینڈ میں نمازیوں کے قتل میں ملوث مجرم کے ترکی آنے اور یہاں پر اس کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسینڈا ارڈیرن نے کرائیسٹ چرچ میں جمعہ کے روز دو مساجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے مجرم کے حوالے سے مزید معلومات بیان کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجرم کا سابقہ ریکارڈ مشکوک نہیں تھا۔ اس نے قانونی طورپر اسلحہ خرید کیا مگر اسے جرم کے لیے استعمال کیا۔

کرائسٹ چرچ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت مساجد پر حملوں کے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس کیس میں مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں انتہا پسندوں اور دائیں بازو سےتعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ کرائسٹ چرچ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں موجود مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس ہائی الرٹ ہے اور شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔