.

شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے سے متعلق رپورٹ بے بنیاد ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے اتوار کی شام اُس اخباری رپورٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن شام میں اپنے ایک ہزار کے قریب فوجی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کے روز کہا تھا کہ شمال مشرقی شام میں "سیف زون" سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ترکی اور امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے ساتھ بات چیت ناکام ہو جانے کے بعد اب امریکا ملک میں کرد جنجگوؤں کے ساتھ کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اخبار نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے تحت شام میں ایک ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو باقی رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل جوزف ڈینفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ایک بڑے امریکی اخبار کی جانب سے اتوار کے روز سامنے آنے والا یہ دعوی کہ امریکی فوج شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ،،، یہ دعوی درحقیقت درست نہیں ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال فروری میں اعلان کردہ (200 فوجیوں کو رکھنے کے) منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکی فوجیوں کو کم کرنے کے حوالے سے صدر کی ہدایت پر عمل درامد جاری رہے گا۔

تاہم جنرل ڈینفور نے واضح کیا کہ امریکا ترکی کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے ساتھ ایک تفصیلی عسکری منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری رکھے گا تا کہ ترکی اور شام کی پوری سرحد پر انقرہ کے سکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس دسمبر میں داعش تنظیم کے خلاف مکمل فتح کی نوید سناتے ہوئے شام کے شمال مشرقی حصے میں پھیلے دو ہزار امریکی فوجیوں کے مکمل اور حتمی انخلا کا اچانک اعلان کر دیا۔ اس اقدام نے وزیر دفاع جیم میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

البتہ کانگریس اور پینٹاگون کے دباؤ پر ٹرمپ نے اُس علاقے میں 200 کے قریب امریکی فوجی باقی رکھنے کا فیصلہ کیا جہاں شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔

مذکورہ امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کا مقصد شامی کُرد جنجگوؤں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یورپی ممالک کو اندیشہ ہے کہ اگر ترکی نے کرد جنگجوؤں (جن کو وہ دہشت گرد شمار کرتا ہے) کے خلاف عسکری آپریشن کیا تو یہ ممالک خود کو مشکل صورت حال میں پائیں گے۔