.

سعودی اسٹاک مارکیٹ تداول 2015 ء کے بعد پہلی مرتبہ 9ہزار پوائنٹس عبور کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹ تداول میں گذشتہ چار سال کے بعد پہلی مرتبہ کاروبار میں ریکارڈ تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور وہ جولائی 2015ء کے بعد پہلی مرتبہ 9 ہزار پوائنٹس کو عبور کرگئی ہے۔

جمعرات کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر پانچ منٹ پر تداول کا انڈیکس 9055 پوائنٹس تک پہنچ چکا تھا اور الراجحی بنک کے حصص کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا ۔اس بنک کے حصص کی قیمت میں 2.92 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق سعودی اسٹاک مارکیٹ مارچ میں خطے میں کارکردگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہی تھی ۔کویت کی پریمئیر مارکیٹ پہلے نمبر پر تھی۔

تداول میں کاروبار کی بہتری میں بنک کاری ( مالیاتی خدمات) کے شعبے نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور بنکوں کے حصص کی قیمتوں میں دوسرے کاروباری شعبوں کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔مارچ میں الراجحی ، نیشنل کمرشل بنک اور سامبا بنک کے حصص میں بالترتیب 7.97 فی صد ، 5.57 فی صد اور 6.72 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تداول میں بہتری کا یہ رجحان مئی کے اوائل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

سعودی عرب نے سال 2014ء میں اپنی معیشت کو تیل مرتکز کے بجائے متنوع بنانے کے لیے اسٹاک مارکیٹ کو غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا ۔اس کے تحت سعودی اسٹاک ایکس چینج میں اہل غیرملکی سرمایہ کار بھی لسٹڈ حصص کی خریداری کرسکتے ہیں۔غیرملکی بنک ،بروکر ہاؤس ،فنڈ مینجر اور خلیج سے باہر کام کرنے والی انشورنس کمپنیاں سعودی عرب میں براہ راست سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔

تاہم سعودی عرب میں غیرملکی سرمایہ کاری کے خواہاں سرمایہ کاروں کے لیے کڑی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔غیرملکی سرمایہ کار ادارہ کسی سعودی کمپنی کے پانچ فی صد سے زیادہ حصص خرید نہیں کر سکتا ہے۔وہ اور اس کے کلائنٹس اکٹھے مل کر کسی کمپنی کے بیس فی صد سے زیادہ حصص نہیں خرید کر سکتے۔اس وقت سعودی اسٹاک ایکس چینج میں 168 کمپنیوں کا اندراج ہے۔

سعودی عرب اس وقت دنیا میں تیل کا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے،وہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں سب سے بڑی اور دنیا کی انیسویں معیشت ہے۔ سعودی عرب کے مالی سال 2019ء کے میزانیے میں اخراجات کا تخمینہ 11 کھرب سعودی ریال لگایا گیا ہے اور یہ ایک ریکارڈ رقم ہوگی ۔یہ رقم 2018ء کے مقابلے میں 7.3 فی صد زیادہ ہے۔