.

برطانیہ : لندن میں تحفظ ماحول کے لیے مظاہرے جاری ، 700 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تحفظِ ماحول کی تحریک کے زیر اہتمام ہفتے کو مسلسل چھٹے روز بھی مظاہرے جاری ہیں۔اس دوران میں پولیس نے بلووں ، نقضِ امن اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 718 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہرین نے آج بھی شہر میں واٹرلو پُل اور آکسفورڈ سرکس جنکشن کو بلاک کیے رکھا ہے حالانکہ پولیس نے زرد رنگ کی تیرتی کشتی کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔ یہ کشتی تحریک کے مرکزی فطری نقطہ کے طور پر استعمال ہورہی تھی۔پولیس نے 28 افراد پر مظاہروں اور نقضِ امن کے الزام میں فرد ِجُرم عایدکردی ہے۔

ان مظاہروں کا اہتمام گذشتہ سال برطانیہ میں ماہرین تعلیم وتدریس کے قائم کردہ گروپ ’’معدومی بغاوت‘‘ کررہا ہے۔یہ دنیا میں تحفظِ ماحول کے لیے ایک بڑی تحریک بن چکی ہے۔اس مہم کے قائدین و کارکنان حکومتوں سے ماحول کے تحفظ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان ، 2025 ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر تک لانے اور حیاتیاتی تنوع کے ضیاع کو روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

پولیس نے لندن میں مظاہرین کو ہائیڈ پارک کے ایک کونے ماربل آرچ تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انھوں نے گرفتاری کی دھمکیوں کو نظر انداز کردیا ہے اور دوسری جگہوں کو بھی بلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ہم کاروبارِ زندگی کو معمول پرلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس مظاہرے کے دوران میں ایک غیر معمولی بات دیکھنے میں آئی ہے اور وہ یہ کہ اس کے شرکاء گرفتار ی کے لیے تیار ہیں اور وہ گرفتاری کے وقت کوئی مزاحمت بھی نہیں کرتے ہیں‘‘۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے خود اس کے لیے بھی ’’ لاجسٹیکل مسئلہ ‘‘ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جیل کوٹھڑیوں اور حوالاتوں میں تو اتنے زیادہ زیر حراست افراد کو رکھنے کے لیے جگہ نہیں رہی ہے اور فوجداری نظامِ انصاف کے لیے بھی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے‘‘۔