خلیفہ حفتر کی فوج نے قومی اتحادی حکومت کا جنگی طیارہ مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں‌طرابلس پر چڑھائی کرنے والے جنرل خلیفہ حفتر کی فوج نے قومی وفاق حکومت کا ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

منگل کے روز جنرل حفتر فوج کےترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے بتایاکہ قومی وفاق حکومت کا طیارہ وسطی لیبیا میں الجفرہ فوجی اڈے پر بمباری کے دوران مار گرایا گیا۔

المسماری کا کہنا تھا کہ منگل کے روز طرابلس ملیشیا کےتین طیاروں نے الجفرہ فضائی اڈے پر بمباری کی کوشش کی تھی۔ اس دوران خلیفہ حفتر کی فوج نےاینٹی ایئر کرافٹ کی مدد سے ایک طیارہ مار گرایا اور دو بھاگ کھڑے ہوئے۔ مار گرائے جانے والےطیارے کے ملبے کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی قومی وفاق حکومت کے جنگی طیاروں نے الجفرہ فضائی اڈے پربمباری کی تھی جس کے جواب میں خلیفہ حفتر کی فوج کی طرف سےجوابی کارروائی کی گئی تھی تاہم اس بمباری میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ الجفرہ فوجی اڈے پر سنہ 2017ء سے لیبیا کے جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار فوج کا قبضہ ہے۔

لیبیا میں پیر کی شام مغربی علاقے سے آنے والی بھاری عسکری کمک نے دارالحکومت طرابلس پہنچ کر لڑائی کے محاذوں پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ یہ پیش رفت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے مسلح ملیشیاؤں سے آزاد کرانے کے لیے معرکے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کے سلسلے میں سامنے آئی ہے۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان احمد المسماری کے مطابق مغربی عسکری علاقے کے کمانڈر میجر جنرل ادریس مادی کو ایک بڑی فورس کے ساتھ الزنتان شہر سے طرابلس فریڈم آپریشنز روم منتقل کیا جا رہا ہے جہاں وہ لڑائی کے مشن کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

لیبیا کی جنرل کمان کے مقرب پیجز پر پوسٹ ہونے والے ایک وڈیو کلپ میں اُس فورس کو دکھایا گیا ہے جس کا ذکر المسماری نے اپنے بیان میں کیا۔ فورس میں سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور بھاری اسلحہ دارالحکومت طرابلس کی جانب رواں دواں دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں