سوڈان : فریڈم اینڈ چینج ڈیکلریشن فورسز کا جارحانہ اقدامات کا عندیہ
سوڈان میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت فریڈم اینڈ چینج ڈیکلریشن فورسز کا کہنا ہے کہ عسکری کونسل کا بعض سیاسی قوتوں کے ساتھ بدھ کے روز مقررہ اجلاس "انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی کوشش" ہے۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق یہ موقف منگل کی شب سامنے آیا۔
خرطوم میں جنرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فریڈم اینڈ چینج کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ان کی جماعت اب جارحانہ اقدامات کا سہارا لے گی۔
جماعت کے ترجمان کے مطابق آئینی دستاویز کو قانون سازی کے ذرائع پر مشتمل نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یہ کوئی آئینی اعلان یا کوئی عبوری یا مستقل آئین نہیں ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ عسکری کونسل اختلاف کے بنیادی نقطے سے فرار اختیار کر رہی ہے۔ یہ نقطہ خود مختار کونسل میں نمائندگی کا تناسب ہے اور فریڈم اینڈ اینڈ چینج کا مطالبہ ہے کہ اس میں عسکری نمائندگی محدود ہونا چاہیے۔
دوسری جانب سوڈان میں عبوری عسکری کونسل کے ترجمان جنرل شمس الدین الکباشی کا کہنا ہے کہ عسکری کونسل ،،، فریڈم اینڈ چینج ڈیکلریشن فورسز کی جانب سے ویژن دستاویز کو قابل قدر سمجھتی ہے۔
منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں الکباشی کا کہنا تھا کہ اختلاف کے مقابلے میں ہمارے اور فریڈم اینڈ چینج کے درمیان کئی نکات پر اتفاق ہے۔ ترجمان کے مطابق عبوری کونسل نے فریڈم اینڈ چینج کے ویژن کے نکات میں بعض ترامیم کی ہیں۔
الکباشی کا کہنا تھا کہ فریڈم اینڈ چینج کی دستاویز نے قانون سازی کے ذرائع کو نظر انداز کر دیا جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت قانون سازی کا ذریعہ ہو۔
ترجمان کے مطابق عبوری کونسل کے پاس یہ آپشن بھی ہے کہ اگر عبوری حکومتی نظام کے ڈھانچے کے حوالے سے اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہو سکا تو کونسل 6 ماہ کے اندر قبل از وقت انتخابات کی کال دے سکتی ہے۔