ایرانی خبرایجنسی فارس نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کی تصویری ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرا ن کی سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ خبررساں ایجنسی فارس نے بدھ کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں سے متعلق ایک ویڈیو نشر کی ہے۔اس میں حملوں کا ہدف بننے والی تنصیبات کی تصویری وضاحت کی گئی ہے۔

یہ ویڈیو 30 سیکنڈ ز دورانیے کی ہے اور اس کا عنوان ’’سعودی آرامکو کو ہدف بنانے والےیمنی طیاروں کی تصویری وضاحت‘‘ ہے۔اس میں تیل کے پمپنگ اسٹیشنوں پر سات ڈرونز کو حملہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

حوثی باغیوں کے زیر انتظام المیسرہ ٹی وی نے گذشتہ روز فوجی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر سات ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے ان ڈروں حملوں کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ ان میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔

ایک ڈرون حملے میں سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع تیل کے دو کنووں کو مغرب میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع ساحلی شہر ینبع کی بندرگاہ سے ملاتی ہے۔یہ دونوں آئیل فیلڈ سعودی عرب کے قصبے الدوادمی اور عفیف شہر میں واقع ہیں۔

سعودی وزیر برائے توانائی ، صنعت اور قدرتی وسائل خالد الفالح نے تیل کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملوں کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ڈرون حملے دنیا کو تیل کی رسد روکنے کے لیے کیے گئے ہیں مگر سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اور برآمدات بلا تعطل جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ تمام دہشت گرد تنظیموں کا استیصال ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں