.

عرب ممالک کو مکہ میں ہونے والے مجوزہ سربراہ اجلاسوں کےدعوت ناموں کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے مکہ مکرمہ میں دو علاقائی سربراہ اجلاسوں کے دعوت نامے تمام رکن ممالک کو بھیج دیے ہیں۔سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 30 مئی کو عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے بیک وقت دو اجلاس طلب کیے ہیں اور ان میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) نے عرب لیگ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے سوموار کو تنظیم کے رکن ممالک کو دعوت نامے بھیجنے کی اطلاع دی ہے لیکن قطر نے کہا ہے کہ اس کو یہ دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ منگل کے روز سعودی عرب میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا اور یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس سے دو روز پہلے گذشتہ اتوار کو متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک چار بحری جہازوں پر تخریبی حملے کیے گئے تھے۔ان میں دو تیل بردار بحری جہاز سعودی عرب کے تھے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہفتے کے روز ان حملوں کے مضمرات پر غور کے لیے مکہ مکرمہ میں عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی تھی۔

عرب لیگ کے عہدہ دار نے وضاحت کی ہے کہ مجوزہ سربراہ اجلاس تنظیم کے منشور کی دفعہ تین پر عمل درآمد کے فریم ورک کے تحت بلایا جارہا ہے۔اس کے تحت سال میں مارچ کے مہینے میں ایک مرتبہ سمٹ کی سطح پر کونسل کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔

اس میں یہ بھی صراحت کی گئی ہے کہ اگر عرب اقوام کی سلامتی سے متعلق کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو عرب لیگ کسی ایک رکن ملک کی درخواست پر اجلاس منعقد کرے گی لیکن تنظیم کے دوتہائی رکن ممالک کو اس اجلاس کو طلب کرنے کی منظوری دینی چاہیے۔