فلپائنی صدر کا کئی ٹن کچرا کینیڈا واپس بھجوانے کا حکم

'باضابطہ وصولی نہ ہونے کی صورت میں کچرا سمندری حدود میں پھینکا جائے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے نے کئی سال قبل کینیڈا کی جانب سے فلپائن کو بھجوائے گئے کئی ٹن وزنی کچرے کو کینیڈا واپس بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

صدر کے ترجمان کے مطابق اگر کینیڈا نے اس کچرے کو باضابطہ طور پر قبول نہ کیا تو اسے کینیڈا کی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے تنازع کے حل کے لیے منیلا نے 15 مئی کی طے شدہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد اوٹاوا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق صدر دوتیرتے نے ڈیڈلائن گزرنے کی وجہ سے اس کچرے کو کینیڈا کو واپس بھیجنے کے لئے کہا ہے۔

کینیڈا کی ایک فرم نے 2013 اور 2014 کے دوران ریسائیکلنگ کرنے کی غرض سے کچرے کے درجنوں کنٹیرز فلپائن بھیجے اور یہ کچرا تب ہی سے فلپائن اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات میں رخنہ بنا ہوا ہے۔

کینیڈا کی وزیر ماحولیات کیتھرین مکّینا کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ کینیڈا کی ایک کمپنی کو اس کچرے کی کینیڈا واپسی اور اس کو ٹھکانے لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں