.

سیکڑوں جج گرفتار کرنے پر یورپی عدالت نے ترکی سے وضاحت مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی ایک یورپی عدالت نے ترکی میں 546 ججوں کو جیلوں‌ میں قید کیے جانے کی خبروں کے بعد انقرہ سے وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سنہ 2016ء میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سیکڑوں ججوں‌ اور قانون دانوں‌ کو حراست میں لینا باعث تشویش اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا اشارہ دیتا ہے۔

فرانسیسی شہر سٹراسبرگ کی عدالت نے بیان میں کہا کہ عدالت کو مختلف اوقات میں ترکی میں تین سال کے دوران اب تک 546 ججوں کی گرفتاریوں کی شکایات ملی ہیں۔ ان ججوں پر فتح اللہ گولن کی تنظیم سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے اور تُرکی اس اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ان تمام ججوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ ترکی اس امر کی وضاحت کرے کہ اتنی بڑی تعداد میں‌ ججوں‌ کو جیلوں‌ میں کیوں‌ کر قید کیا گیا ہے؟

یورپی عدالت کے مطابق ترکی میں بعض ججوں کو عارضی طور پر گرفتار کیا گیا جب کہ بعض کو احتیاطی تدابیر کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ترکی میں ججوں‌ کی گرفتاریوں پر اعتراضات مسترد ہونے سے شہری آزادیاں مزید سوالیہ نشان بن گئی ہیں اور ترکی کی دستوری عدالت کے فیصلے ناقابل قبول ہیں۔

عدالت کا مزید کہنا ہے کہ ترکی میں ججوں کی کالعدم تنظیم سے تعلق کے شبے میں گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہیں‌ ہوا۔ حکومت کی طرف سے ججوں پر مسلسل الزامات عاید کیے جا رہے ہیں ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

خیال رہے کہ ترکی میں 15 جولائی 2016ء کو فوج کےایک گروپ نے بغاوت کی ناکام کوشش کی تھی، جس کے بعد حکومت نے باغیوں‌ کے خلاف ملک گیر کریک ڈائون شروع کیا۔ اس دوران فوج، پولیس، عدلیہ، محکمہ تعلیم اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری محکموں سے حکومت کے مخالفین کو چن چن کر حراست میں لیا گیا۔ ترک صدر طیب ایردوآن کے سیاسی مخالفین سمیت دسیوں ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔