.

ایران امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے غیرروایتی ذرائع سے تیل فروخت کررہا ہے: وزیر تیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران امریکا کی پابندیوں سے بچنے کے لیے ’’غیر روایتی‘‘ ذرائع سے تیل فروخت کررہا ہے۔اس بات کا انکشاف ایران کے وزیر تیل بی جان نامدار زنگانہ نے ہفتے کے روز شائع شدہ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

ایرانی وزارت تیل کی خبررساں ایجنسی شانا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’ہم غیر سرکاری یا غیر روایتی انداز میں تیل فروخت کررہے ہیں اور یہ تمام خفیہ عمل ہے کیونکہ اگر ہم اسے عام کرتے ہیں تو پھر اس کو امریکا فوری طور پر روک دے گا‘‘۔

انھوں نے ایران کی تیل کی برآمدات کے اعداد وشمار فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران پر عاید کردہ پابندیاں ختم نہیں کی جاتی ہیں،اس وقت تک وہ تیل کی برآمدات کے اعداد وشمار جاری نہیں کریں گے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران کے ساتھ 2015 ء میں چھے بڑی طاقتوں کے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور پھر نومبر میں اس پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں ۔ان میں ایران کی تیل کی برآمدات کو ہدف بنایا گیا تھا لیکن ابتدائی طور پر چین سمیت آٹھ ممالک کو ایران سے تیل کی خریداری میں چھے ماہ کے لیے استثنا دیا گیا تھا ۔

مئی میں یہ استثنا بھی ختم ہوچکا ہے۔ان اقدامات کا مقصد مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا تھا۔ امریکا نے حال ہی میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ان ممالک نے ایران سے تیل خرید کیا تو انھیں بھی اب پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی پابندیوں کے بعد ایران کی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے ۔اپریل میں اس کی تیل کی برآمدات کم ہو کر ساڑھے سات لاکھ یومیہ بیرل ہوچکی تھیں جبکہ اکتوبر 2018ء میں ایران کی تیل کی برآمدات پندرہ لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔

ایرانی وزیر تیل کا کہنا تھا کہ ’’امریکا نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرکے اس کی معیشت کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے اور اس طرح وہ ’’ برائی کی بلوغت‘‘ کو پہنچ گیا ہے‘‘۔انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ تایخ میں ایران کے خلاف اب سب سے کڑی اور منظم پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

بی جان نامدار نے ایرانی پارلیمان کی خبری ویب گاہ آئی سی اے این اے میں شائع شدہ ایک اور انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کا تیل برآمد کرنے ممالک کی تنظیم ( اوپیک )کو خیر باد کہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔