امریکا نے حزب اللہ کے نیٹ ورک کے خلاف سائبر حملے کیے: سی این این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا نے ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی ذرائع کے حوالے سے اس امر کا انکشاف امریکی نیوز چینل "CNN" نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا ہے۔

امریکی عہدیدران کے مطابق سائبر حملے کا مقصد حزب اللہ ملیشیا کے نیٹ ورک اور اس کے درمیان رابطوں کو ہیک کر کے غیر فعال بنانا تھا۔ حکام نے اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں کہ ایران کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والی ملیشیا کے نیٹ ورک کو سائبر حملے سے کتنا نقصان پہنچا۔

امریکی وزارت دفاع نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ مشرق وسطیٰ میں عسکری کارروائیوں کی نگراں امریکی قیادت کے ترجمان کیپٹن ولیم اوربین بے بتایا کہ "امریکی مرکزی کمان کسی بھی ممکنہ سائبر حملے پر تبصرہ کرنے کو مسترد کرتی ہے"۔

امریکی فوج ضرورت پڑنے پر تباہ کن حملوں کے لیے اختیاری طور پر ممکنہ برقی آلات کی فہرست محفوظ رکھتی ہے۔ امریکی صدر بھی سائبر حملوں کے احکامات دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔

امریکی ذمے داران نے معلومات کی حساسیت کی بنا پر اپنے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا ایران کے مفاد میں کام کرنے والی ملیشیا حزب اللہ ،،، اپنے پاس موجود ایرانی میزائلوں کے سبب تشویش کا خاص ذریعہ ہے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافے کے ساتھ اس امکان پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ خطے میں امریکی افواج اور اس کے مفادات کے خلاف حملے کیے جائیں گے۔ سال 2009 میں حزب اللہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ حزب اللہ ماضی میں امریکی افواج کے خلاف متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

علاوہ ازیں CNN چینل کے مطابق امریکا نے گذشتہ ہفتے ایران کے ان پروگراموں کے سسٹمز کو بھی سائبر حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا جو خلیج عربی میں تجارتی بحری جہازوں کا پتہ چلانے کے واسطے استعمال ہو رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں