قابض اسرائیل کی جانب سے لبنانی فوج کی ایک عسکری گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد حزب اللہ نے بالواسطہ طور پر دو فوجی افسران اور ایک اہلکار کےقتل کی ذمہ داری لبنانی انتظامیہ پر بھی عائد کر دی ہے۔
حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "فوج کی عسکری گاڑی پر ہونے والا یہ مجرمانہ حملہ اور اس کے نتیجے میں دو افسران اور ایک فوجی کا قتل ایک کھلا اور دانستہ جرم ہے۔ یہ اس طویل فہرست میں ایک اور اضافہ ہے جو قابض اسرائیل ہمارے لبنانی عوام بالخصوص جنوب اور مغربی بقاع میں ڈھاتا آ رہا ہے۔ یہ المناک واقعہ لبنانی حکومت کی جانب سے ملک کی خودمختاری اور اپنے عوام کے خون کو ہلکا لینے اور مفت کے سمجھوتوں کا ایک قدرتی نتیجہ ہے۔ ان سمجھوتوں کی تازہ ترین کڑی واشنگٹن میں دشمن کی شرائط کے سامنے مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنا ہے، جس نے دشمن کو ہمارے عوام اور ہماری فوج کا خون بہانے کے لیے مزید شیر کر دیا ہے"۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی افواج کے لیے ایک مبینہ خطرہ محسوس کرنے کے بعد اس گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی معلومات ملی تھیں جن کے مطابق حزب اللہ کا گروپ اس علاقے سے اسرائیلی افواج پر فائرنگ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملے کے وقت لبنانی فوج کے دو افسران اور ایک سپاہی اس گاڑی کے اندر موجود تھے۔
برگیڈیئر جنرل، کیپٹن اور فوجی کی ہلاکت
دوسری جانب لبنانی فوج نے بتایا کہ یہ فضائی حملہ بیروت سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب میں واقع الخردلی-النبطیہ شاہراہ پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک برگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
بتاريخ ٦ / ٦ / ٢٠٢٦، استهدفت غارة عدوانية همجية إسرائيلية آلية عسكرية على طريق كفرتبنيت - الخردلي (النبطية)، أدت إلى استشهاد ضابطيَن، برتبتَي عميد ونقيب، وجندي.
— الجيش اللبناني (@LebarmyOfficial) June 6, 2026
إنّ استمرار العدوان الإسرائيلي الوحشي المتعمد والمتكرر على لبنان وشعبه وعلى الجيش، يزيدنا صلابةً وإيمانًا وعزمًا على… pic.twitter.com/B3xzC2HuTs
لبنانی فوج نے اپنے موقف میں کہا کہ "یہ اسرائیلی حملے دراصل حل تک پہنچنے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں"۔ فوج نے عزم کا اظہار کیا کہ "لبنان، اس کے عوام اور فوج پر قابض اسرائیل کی اس دانستہ اور مسلسل وحشیانہ جارحیت کے باوجود، ان جارحانہ کوششوں کے خلاف ہماری چٹان جیسی سختی اور دفاع کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ دشمن کا مقصد ان تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام، مکمل جنگ بندی اور لبنانی سرزمین سے اسرائیلی انخلاء کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں"۔
فوج کی قیادت (ڈائریکٹوریٹ آف اورینٹیشن) نے شہید برگیڈیئر جنرل وسام صبرہ، شہید کیپٹن ایلی الخوری اور شہید فوجی حسین عبد العلی غزال کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جو چھ جون سنہ 2026ء کو الخردلی - کفرتبنیت (النبطيہ) شاہراہ پر دشمن اسرائیل کی فضائی بمباری کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔
دوسری طرف لبنانی صدر جوزف عون نے اس اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملہ جنوب کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج اپنی دھرتی اور اپنے عوام کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔
تنعى قيادة الجيش ـــ مديرية التوجيه، العميد الشهيد وسام صبره والنقيب الشهيد ايلي الخوري والجندي الشهيد حسين عبد العلي غزال الذين استشهدوا بتاریخ ٦ / ٦ / ٢٠٢٦ جرّاء استهدافهم بغارة إسرائيلية معادية على طريق الخردلي - كفرتبنيت (النبطية).
— الجيش اللبناني (@LebarmyOfficial) June 6, 2026
وفي ما يلي نبذة عن حياة كل منهم:
● العميد… pic.twitter.com/nvBEie9cts
واضح رہے کہ گذشتہ سولہ اپریل کو جنگ بندی کے پہلے اعلان اور پھر اس میں دو مرتبہ توسیع کیے جانے کے باوجود، جنوب کے وسیع علاقوں پر قابض اسرائیل کے فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام پر، جو گذشتہ منگل اور بدھ کے روز منعقد ہوا تھا، لبنان، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ ایک سہ فریقی مشترکہ بیان میں "جنگ بندی پر عمل درآمد" کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم اس بیان میں یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی طرف سے مکمل فائرنگ روکنے اور جنوبی لبطانی کے علاقے سے حزب اللہ کے تمام عناصر کے انخلاء پر ہے۔
اس شرط نے حزب اللہ کو اس معاہدے پر شدید تنقید کرنے پر مجبور کیا اور انہوں نے اسے انتہائی شرمناک اور توہین آمیز قرار دیا۔ جبکہ اس کے برعکس صدرِ مملکت اور وزیر اعظم نواف سلام نے اصرار کیا کہ موجودہ نازک حالات میں عام لبنانیوں اور بالخصوص جنوبی لبنان کے باشندوں کے لیے "مذاکرات" ہی سب سے بہترین اور موزوں ترین راستہ ہیں۔
-
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کی لبنانی صدر کے بارے میں ٹویٹ... شدید برہمی کا سبب
حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک لبنانی صدر جوزف عون کے گذشتہ روز دیے گئے بیان کے جواب ...
مشرق وسطی -
ملک کے تمام علاقوں پر ریاست کی مکمل عملداری قائم ہونی چاہیے:لبنانی وزیرِاعظم
اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر جاری فضائی حملوں کے تسلسل کے درمیان لبنان کے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کی طرف سے لبنان میں یونی فِل کے مقام پر حملے کی مذمت
سعودی عرب نے جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج (یونی فِل) کے فوجی مقام پر ...
مشرق وسطی