.

ایران ایک گھنٹے میں جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کی جانب لوٹ سکتا ہے: حسن روحانی

ہمارا یورپ اور امریکا کے لیے مشورہ ہے،دلیل ومنطق کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سات جولائی کے بعد اپنی مرضی کے مطابق جس سطح پر چاہے گا اور جتنی مقدار میں چاہے گا،یورینیم کو افزودہ کر سکے گا مگر وہ صرف ایک گھنٹے میں جوہری ڈیل کے تقاضوں کی پاسداری کی جانب لوٹ سکتا ہے۔

یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کو بیان میں کہی ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’اگر جوہری سمجھوتے پر دست خط کرنے والے باقی ممالک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے ہیں تو پھر آراک میں واقع جوہری ری ایکٹر میں سات جولائی کے بعد سابقہ سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔‘‘

البتہ انھوں نے واضح کیا کہ ’’ایران جوہری ڈیل کے تحت اپنے تقاضوں کی جانب صرف ایک گھنٹے میں لوٹ سکتا ہے۔ہمارا یورپ اور امریکا کو مشورہ ہے کہ وہ دلیل ومنطق کے ساتھ مذاکرات کی میز کی جانب لوٹ آئیں ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور قانون کا احترام کریں ۔ان شرائط کے تحت ہم سب ہی جوہری ڈیل کی پاسداری کرسکتے ہیں‘‘۔

حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے یورپ کو اس بات کا اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایران کو امریکا کی کڑی پابندیوں سے بچانے کے لیے اب بھی اقدامات کر سکتا ہے لیکن اگر یورپ کچھ نہیں کرتا تو پھر ان کے بہ قول ’’ ہم جتنی مقدار میں چاہیں گے تو 3.67 فی صد سے زیادہ سطح پر یورینیم کو افزودہ کر سکیں گے‘‘۔

یورپ کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔البتہ ایک روز قبل ہی یورپی طاقتوں نے الگ الگ بیانات میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی سے گریز کرے اوریورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا عمل روک دے۔

جوہری ڈیل کے تحت ایران نے 3.67 فی صد تک افزودہ یورینیم کی مقدار کو 300 کلوگرام سے کم سطح پر رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔ ایران نے گذشتہ سوموار کو 2015 ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے اس سمجھوتے کے تحت مقررہ مقدار 300 کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے ۔ ویانا میں قائم بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی ایران کے اس اعلان کی تصدیق کی ہے ۔