ایران کایورینیم کواعلیٰ سطح پرافزودہ کرنے، جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط سے پہلوتہی کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کو یورینیم کو پانچ فی صد تک افزودہ کرنے کا ا علان کیا ہے ۔

ایک ایرانی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’یورینیم کو 3.67 فی صد سے بڑھا کر 5 فی صد تک افزودہ کرنے کا اہم اعلان کردیا جائے گا‘‘۔

قبل ازیں ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے یہ اطلاع دی تھی کہ نائب وزیر خارجہ اور اعلیٰ جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط نہ ماننے کا اعلان کریں گے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک روز پہلے ہی جمعہ کو یہ اشارہ دیا تھا کہ پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم کو پانچ فی صد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے اور یہ عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔

ایران نے 8 مئی کو تین یورپی ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کو جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے سات جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی تھی اور یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے ایران کو امریکا کی کڑی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا تو وہ یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کے لیے اپنے جوہری ری ایکٹروں پر سرگرمیاں بحال کردے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے بھی جمعہ کو شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ افزودہ یورینیم کو ہم اپنی پُرامن سرگرمیوں کے لیے درکار سطح تک بڑھادیں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ بوشہر جوہری ری ایکٹر میں ہمیں یورینیم کو پانچ فی صد تک افزودہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے‘‘۔

بوشہر میں ایران کا واحد جوہری پاور اسٹیشن واقع ہے۔اس وقت اس اسٹیشن کو روس سے درآمد کیے جانے والے ایندھن سے چلایا جارہا ہے۔یہ اقوام متحدہ کےتحت بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے زیر نگرانی کام کررہا ہے۔

علی اکبر ولایتی نے مزید کہا کہ ’’ امریکا نے براہ راست اور یورپیوں نے بالواسطہ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ اس کی جتنی خلاف ورزیوں کا مزید ارتکاب کریں گے، ہم اسی تناسب سے ردعمل ظاہر کریں گے‘‘۔

ایران نے گذشتہ سوموار کو 2015 ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مقدار سے 300 کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے ۔ اس کے جواب میں یورپی طاقتوں نے الگ الگ بیانات میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی سے گریز کرے اوریورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا عمل روک دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں