.

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام برطانوی جہازوں کے لیے "فریگیٹ" کا ہمراہ ہونا لازم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ طور پر خلیج کے علاقے میں موجود برطانوی بحریہ کی فریگیٹ "ایچ ایم ایس مونٹروز" تمام برطانوی پرچم بردار جہازوں کے ہمراہ محو سفر ہو گی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ رائل نیوی کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے برطانوی پرچم بردار جہازوں کے ہمراہ ہو گی خواہ یہ جہاز اکیلا یا پھر مجموعے کی صورت میں ہو۔ اس شرط کے ساتھ کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے سے کافی وقت پہلے اس کا نوٹیفکیشن حاصل کرنا ہو گا۔

برطانوی حکومت کے ترجمان نے باور کرایا کہ جہاز رانی کی آزادی عالمی تجارت اور دنیا کی معیشت کے نظام کے واسطے فیصلہ کن مسئلے کی حیثیت رکھتی ہے ... اور ان کا ملک اس آزادی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

برطانوی فریگیٹ مونٹروز نے نئی پالیسی کے تحت اپنا پہلا مشن بدھ کی شام انجام دیا۔

دوسری جانب فرانس کی وزیرِ فوج فلورنس بارلے کا کہنا ہے کہ پیرس ، برلن اور لندن اضافی فورسز کی تعیناتی کے بغیر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سیکورٹی کے تحفظ کے متعلق معلومات کا باہمی تبادلہ کریں گے۔

برطانیہ کا یہ اقدام امریکا کے نئے وزیر دفاع مارک ایسپر کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایسپر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر واشنگٹن آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے بحری جہازوں کو عسکری رفاقت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز میں تہران کی جانب سے برطانوی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد لندن، پیرس اور برلن خطے میں جہاز رانی کی سیکورٹی کے تحفظ کے واسطے متحرک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ نے جبل طارق میں ایران کا ایک تیل بردار جہاز اس دعوے کے ساتھ تحویل میں لے لیا تھا کہ اس نے یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ شام تیل منتقل کر رہا تھا۔

دوسری جانب تہران کی جانب سے متضاد مواقف پر مبنی بیانات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کبھی تو ایران اپنا لہجہ سخت کر لیتا ہے ، کبھی وہ خطے میں جہاز رانی کی سیکورٹی کا عزم کرتا ہے اور کبھی بیرونی قوتوں پر جہاز رانی کا امن خراب کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔