.

ترکی کے راستے النصرہ کورقوم بھیجنے والا سیل اٹلی میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی میں حکام نے 10 دہشتگرد ملزمان جن میں دو اطالوی اور آٹھ تیونسی شامل ہیں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ترکی کے راستے شام میں سرگرم القاعدہ کے سابق ونگ النصرہ فرنٹ کو مالی اعانت بھیجنے میں ملوث رہے ہیں۔ ملزمان میں ملک کے وسطی شہر ابروز میں واقع ایک مسجد کا امام بھی شامل ہے۔

ابروزو کے علاقے میں لاکویلا میں قائم عدالت میں استغاثہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد پر متعدد کمپنیوں میں بڑی رقم جمع کرنے کے لیے جعلی اکاؤنٹ بنائے جانے کا شبہ تھا۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ ٹیکس چوری پرمشتمل ہے۔

ملزمان کی شناخت

اٹلی میں ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ یہ رقم النصرہ محاذ سے منسلک عناصر نے تنظیم کی مالی اعانت کے لیے بھیجی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ رقم اٹلی میں مسجد کےسخت گیرآئمہ کے لیے تھی ۔ ان میں سے ایک کو دہشت گردی کی وارداتوں کے ارتکاب کے لیے مجرم نیٹ ورک سے تعلق رکھنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اطالوی حکام نے النصرہ فرنٹ کے لیے بھیجنے کے لیے جمع کی گئی ایک ملین یورو سے زاید کی رقم اور دیگر غیرمنقولہ جائیداد قبضے میں لی ہے اور اس کے ساتھ 10 افراد کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

تفتیش کاروں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس گروپ کےسرغنہ پر شبہ ہے کہ وہ تیونس کا رہائشی ہے اور تعمیرات اور قالین کے تجارتی شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کی مالک ہے۔