.

روسی میزائل سسٹم کے سبب امریکی وزارت خزانہ کا ترکی کی عملی سرزنش پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی جانب سے روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی میزائل سسٹم خریدے جانے کے سبب انقرہ پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

منوچن پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے پابندیوں کے حوالے سے کسی ممکنہ ہدف کا تعین نہیں کیا۔

ترکی کی جانب سے S-400 میزائل سسٹم کی خریداری انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اختلاف کا سبب ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ یہ سسٹم نیٹو اتحاد کے دفاعی سسٹم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اور جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں کے لیے خطرہ بھی ہے۔

واشنگٹن اپنے اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ روسی ساختہS-400 سسٹم F-35 طیاروں کی ٹکنالوجی کے روز کے واسطے خطرہ بن سکتا ہے اور اس حوالے سے اہم معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں روس کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

رواں سال جولائی میں امریکا نے ترکی کو جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے بے دخل کر دیا تھا۔ یہ اقدام روسی میزائل سسٹم کی خریداری کی ڈیل ہونے پر بطور سزا کیا گیا۔ امریکی کانگرس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اس حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ S-400 میزائلوں کی خریداری پر جوابی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

امریکی رپورٹوں میں اس غالب گمان کا اظہار کیا گیا ہے کہ رواں سال کانگرس میں پیش کیے جانے والے قانونی بلوں کو پاس کر دیا جائے گا۔ ان بلوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکا کے حریفوں سے نمٹنے کے قانون CAATSA کے تحت انقرہ کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔