.

سعودی عرب میں حملوں کے باوجود ٹرمپ،روحانی ملاقات کا امکان ہے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے بعد بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ امریکا نے ایران پر سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پران ڈرون حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی مشیر کیلین کونوے نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز حملوں سے رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پردونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات کے وقوع ہونے میں کوئی مدد نہیں ملے گی لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ یہ ملاقات ہو بھی سکتی ہے۔

کونوے نے پروگرام ’فاکس نیوز سنڈے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’مجھے صدر ٹرمپ نے یہ اجازت دی ہے کہ میں ملاقات یا عدم ملاقات کا اعلان کروں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ دونوں رہ نماؤں کے درمیان یہ ملاقات ہوتی ہے یا نہیں، مگر اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے معاملے پرپابندیوں اور’زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنے کی مہم جاری رہے گی۔

تاہم مس کونوے نے ایرانیوں سے مخاطب ہوکر کہا’’ آپ سعودی عرب ، شہری علاقوں اور اہم انفرااسٹرکچر پر حملے کرکے اپنے کیس کی کوئی زیادہ مدد نہیں کررہے۔ان حملوں سے توانائی کی عالمی مارکیٹ پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے لیکن ایران نے اس الزام کی تردیدکی ہے۔یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ان ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’سعودی عرب پر کم سے کم ایک سو (ڈرون اور بیلسکٹک میزائل) حملوں میں ایران کا ہاتھ کارفرما ہے جبکہ تہران کے لیڈر ان حملوں کے باوجود سفارت کاری میں مصروف ہیں۔‘‘سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ہفتے کوعلی الصباح ڈرون حملے کے بعد تیل کی پیداوار عارضی طور پر منقطع ہوگئی ہے۔

مس کونوے کا کہنا تھا کہ امریکا کا محکمہ توانائی ان حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی میں کمی کی صورت میں پٹرولیم کے اپنے تزویراتی ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ہمارے پاس توانائی موجود ہے اور ہمارے صدر صاحب نے ذمے دارانہ طریقے سے اس کے ذخائر کی ترقی میں مدد دی ہے کیونکہ جب ایران ایک سو سے زیادہ مرتبہ سعودی عرب پر حملے کرتا ہے تو پھر ہم بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدام کرنے کو تیار ہیں۔‘‘