سعودی آرامکو نے یو بی ایس اور دیوشے کی حصص کی فروخت کے لیے خدمات حاصل کرلیں
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے اپنے حصص کی پہلی مرتبہ فروخت کے لیے یو بی ایس گروپ اور دیوشے کی رابطہ کار( بُک رنر) کے طور پر خدمات حاصل کر لی ہیں اور اس نے اپنے شراکت دار بنکوں کو ان کے کردار کے بارے میں بتانا شروع کردیا ہے۔
اس معاملے سے باخبر دو ذرائع نے ان دونوں اداروں کی رابطہ کار کے طور پر خدمات حاصل کرنے کی اطلاع دی ہے۔آرامکو نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں عالمی رابطہ کے طور پر نو بنکوں کا حتمی انتخاب کیا ہے۔قدرے کم تر کردار کے لیے مزید بنکوں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آرامکو نے جن بنکوں کا انتخاب کیا ہے، ان میں بارکلیز پی ایل سی ، بی این پی پری بس ایس اے،کریڈٹ ایگری کول ایس اے ، گلف انٹرنیشنل بنک بی ایس سی اور سوسائٹی جنرل ایس اے شامل ہیں۔
بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی آرامکو پندرہ کمپنیوں کے انتخاب پر غور کر رہی ہے، ان میں دو چینی فرمیں ہیں۔
سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر گذشتہ ہفتے کے روز ڈرون حملوں کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس کے بیس ارب ڈالر مالیت کے حصص کی پہلی مرتبہ فروخت میں تاخیر ہوسکتی ہے ۔ تاہم اب رابطہ کار فرموں کے انتخاب سے یہ موہوم خدشات دم توڑ گئے ہیں۔
آرامکو کا کہنا ہے کہ اس کی بقیق اور خریص میں واقع تیل مصفا کرنے کی تنصیبات سے ستمبر کے آخر تک خام تیل کی مکمل پیداوار حاصل ہونا شروع ہوجائے گی۔ڈرون حملوں سے ان دونوں تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا اور سعودی عرب کی خام تیل کی یومیہ قریباً ساٹھ لاکھ بیرل پیداوار رُک گئی تھی۔امریکی اور سعودی حکام نے ایران کو آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار قرار دیا ہے جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
دو ذرائع کے مطابق آرامکو کی انتظامیہ کی تجزیہ کاروں سے نومبر کے آخر میں طے شدہ ملاقات کے شیڈول پر بھی نظرثانی کی گئی ہے اور اب یہ ملاقات آیندہ ہفتے ہوگی ۔
دیوشے بنک اور یو بی ایس نے اس نئی پیش رفت کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ سعودی آرامکو نے بھی اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔
آرامکو ابتدا میں پانچ فی صد تک اپنے حصص فروخت کرنا چاہتی ہے اور آیندہ سال ملک کے اندر ہی ایک فی صد مزید حصص فروخت کیے جائیں گے۔