.

شام میں اسرائیلی حملوں سے صورت حال مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگی: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے خبردار کیا ہے کہ شام کے علاقے میں اسرائیل کے فضائی حملوں سے صورت حال مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگی۔

انھوں نے پان عرب روزنامے الشرق الاوسط سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اس طرح کی کارروائیوں سے شام میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا اور خطے میں کشیدگی بھی بڑھے گی۔‘‘

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’شام کو منصوبوں پر عمل درآمد یا حساب چکانے کا پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے۔تمام متعلقہ فورسز کا بنیادی کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ شامی علاقے میں امن کی بحالی کے لیے کام کریں۔‘‘

واضح رہے کہ روس شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کا سب سے بڑا پشتیبان ہے۔بشار الاسد کی وفادار فورسز نے 2011ء کے اوائل میں پُرامن مظاہرین کے خلاف مسلح کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے بعد ملک میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی۔تب سے شامی فورسز نے ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف جنگ کے نام پر ہزاروں افراد کو ہلاک کردیا ہے اور روسی فوج بھی اس کام میں اس کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔

شامی حکومت اپنے تمام مخالفین کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے اور اس کی کارروائیوں کے نتیجے میں لاکھوں شامی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔وہ پڑوسی ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک ہی در بدر ہیں اور ناگفتہ بہ حالات میں رہ رہے ہیں۔