.

روس۔ سعودیہ تعلقات کا فروغ'بی بی سی' کے نامہ نگار کی نظر میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

'بی بی سی' کے سینیر صحافی اور تجزیہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا کہ روسی صدرولادی میر پوتین کا سعودی عرب ریاض کا دورہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔

اُنہوں نے ویب سائٹ کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ماضی میں اس طرح کے جشن کا تصور کرنے کا امکان نہیں تھا۔ مگر اب دنیا بدل چکی ہے۔

رواں ہفتے روسی صدر ولادی میر پوتین کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر انہیں دارالحکومت الریاض میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ استقبال کے موقع پرسعودی عرب کی اعلیٰ قیادت خود موجود تھی۔ روسی صدر کا حالیہ دورہ سعودی عرب غیرمعمولی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ مگر ایسا کیوں ہوا اور اس کا پس منظر کیا ہے؟۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اسی سوال کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ صدرپوتین نے سعودی عرب کا ایک غیر معمولی دورہ کیا ہے لیکن انہیں بین الاقوامی سطح پر بہت کم توجہ ملی ہے۔

ان کا 12 سال میں یہ سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے جس میں تجارت ، سیکیورٹی اور دفاعی عہدیداروں کا ایک بڑا وفد شامل تھا۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 2 ارب ڈالر کے 20 مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

سعودی عرب نے روس کو دعوت دی ہےکہ وہ 14 ستمبرکو سعودی تیل کی تنصیبات پرکیے گئے میزائل حملوں کے سلسلے میں جاری بین الاقوامی تحقیقات میں شریک ہو۔ روس اس سے قبل روس سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی ایران کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے ہیں۔

سعودی قیادت اور روسی صدر کے درمیان روس کے 'ایس 400' میزائل ڈیفنس سسٹم کی سعودی عرب میں نصب کرنے کے امکانات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترکی نے روس سے S-400 دفاعی نظام خرید کیا جس کے بعد امریکا نے انقرہ کو اپنے F35 لڑاکا طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔

تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے طے پائے حالیہ معاہدوں اور جون 2018ء کو طے پائے دو طرفہ تجارتی سمجھوتوں پرعمل درآمد پر تیزی لانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

سعودی عرب میں روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

سعودی سرکاری تیل کمپنی کے ساتھ تیل کے لین دین کرنے والے روسی سپلائرنوومومیٹ کے ساتھ 30 فیصد سعودی حصص کا معاہدہ۔

روس کی طیاروں کو لیز پردینے والی فضائی کمپنی کے ساتھ 600 ملین ڈالر کا معاہد۔

قدرتی گیس کے میدان میں روسی گیزپروم اور سعودی کمپنیوں کے مابین ممکنہ تعاون۔

یہ تمام معاہدے یہ سب سعودیوں اور ریاست کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سنہ 1980ء میں سعودی عرب اور روس ایک دوسرے کے حریف تھے۔

دو طرفہ تعلقات میں فروغ

سچی بات یہ ہے سعودی عرب صرف امریکا اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات محدود نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ اس کا لازمی طور پر مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ماسکو پر بھی بھروسہ کرتاہے، لیکن مشرق وسطی میں ہونے والے واقعات سنجیدہ غور و فکر اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا کا باعث بنے ہیں۔

جب 2017 میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کو اپنی پہلی غیر ملکی صدارتی منزل کے طور پر منتخب کیا تو امریکا اور سعودی عرب میں گرم جوش تعلقات بحال ہوگئے۔

بڑے معاہدوں کے اعلان کے ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر زیادہ نمایاں ہوگئے۔

رواں ہفتے برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے شمالی شام میں تُرک حملہ کو ایک "تباہی" قرار دیا تھا۔ ماسکو سے تعلقات بہتر بنانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ روس اکثر مشرق کو مغرب سے بہتر سمجھتا ہے۔