.

تُونس : دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں القاعدہ کا مقامی لیڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس میں سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں القاعدہ کا ایک مقامی لیڈر ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

تُونس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد ذکری نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع گورنری القصرین کے پہاڑی علاقے میں مسلح افواج اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں نے انتہا پسند تنظیم ’اسلامی مغرب میں القاعدہ‘ کے جنگجوؤں کے خلاف ایک مشترکہ کارروائی کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں القاعدہ سے وابستہ گروپ عقبہ بن نافع کا ایک دہشت گرد لیڈر ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔تُونس میں عقبہ بن نافع کے نام سے القاعدہ کی شاخ ہے۔

القصرین کے الجزائر کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مختلف انتہاپسند گروپ فعال ہیں۔ان میں داعش سے وابستہ جند الخلیفہ گروپ بھی شامل ہے۔اس علاقے میں تونسی سکیورٹی فورسز آئے دن انتہا پسند جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔

تُونس میں 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ انقلاب کے بعد انتہاپسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور ان کے حملوں میں بیسیوں سکیورٹی اہلکار ، عام شہری اور غیر ملکی سیاح مارے گئے تھے۔

تاہم 2015ء میں سکیورٹی فورسز نے انتہا پسندوں کے پے درپے حملوں کے بعد سخت جوابی کارروائیاں کی تھیں جس سے امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے جبکہ تُونسی حکومت نے گذشتہ چار سال سے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کررکھی ہے۔