.

فن لینڈ 30 برس بعد بغداد میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فن لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولے گا اور تقریبا 30 برس کے بعد اپنا سفیر بغداد بھیجے گا۔ اس اقدام کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی از سر نو تاسیس، عراق کی تعمیر نو میں مدد اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو مضبوط بنانا ہے۔

فن لینڈ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں عراقیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد ان افراد کی واپسی اور بے دخلی ابھی تک دونوں ملکوں کے بیچ پُرخار معاملے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں تقریبا 20 ہزار عراقی شہری فن لینڈ پہنچے تھے۔

فن لینڈ کے سفیر ویسا ہیکینن نے سرکاری طور پر اپنا نیا منصب سنبھالنے سے ایک روز قبل جمعرات کو امریکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں واضح کیا کہ اُن کا ملک جو یورپی یونین کا رکن ہے ،،، اس نے جنوری 1991 میں خلیج کی جنگ کے فوری بعد عراق میں اپنا سفارتی وجود ختم کر دیا تھا۔

ابتدائی طور پر عراق میں فن لینڈ کے سفارت خانے میں 4 افراد ہوں گے۔ یہ سفارت خانہ بغداد میں ایک عمارت میں واقع ہے۔ اس عمارت میں سعودی سفارت خانہ بھی ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ایک عراقی شہری کو بے دخل کرنے پر فن لینڈ کی مذمت کی۔ یہ شہری اپنے وطن واپس پہنچتے ہی قتل کر دیا گیا۔

یورپی کونسل کی جوڈیشل اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا "عدالت خاص طور پر اس بات کو سامنے لانا چاہتی ہے کہ فن لینڈ کے حکام نے اُن خطرات کا مطلوبہ توجہ کے ساتھ جائزہ نہیں لیا جو خاتون مدعی کے والد کو عراق میں درپیش تھے"۔

عدالت نے فن لینڈ کی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ 2018 میں عدالت سے رجوع کرنے والی لڑکی کو اُس کے باپ کی جان کے معنوی زر تلافی کے طور پر دس ہزار کی ادائیگی کرے۔