.

ایران میں آیندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کے اندراج کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آیندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدواروں کی رجسٹریشن کا آغاز ہوگیا ہے۔

یہ انتخابات 21فروری 2020 ء کو منعقد ہوں گے اور یہ اعتدال پسند اور اصلاح پسند دھڑوں کی عوامی مقبولیت کا بھی ایک امتحان ہوں گے۔ ایرانی صدر حسن روحانی اصلاح پسندوں کے نمایندہ سمجھے جاتے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل سخت گیر سیاسی دھڑے ہیں۔

ان انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پارلیمان مئی میں اپنے کام کا آغاز کرے گی۔پارلیمان کی 290 نشستوں کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

ایران کی دستوری کونسل شورائے نگہبان پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی جانچ کرتی ہے اور ان کے ناموں کی منظوری دیتی ہے۔انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں امیداروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمر 30 سے 75 سال کے درمیان ہونی چاہیے اور انھیں ماسٹرز ڈگری کا حامل ہونا چاہیے۔

ایرانی پارلیمان کے موجودہ اسپیکرعلی لاری جانی نے آیندہہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔وہ گذشتہ بارہ سال سے اسپیکر چلے آرہے ہیں اور انھوں نے روحانی حکومت کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے حالیہ فیصلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایران میں نومبرمیں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے خلاف ایک سو سے زیادہ شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور ایرانی سکیورٹی فورسز نے طاقت کے ذریعے چھے سات روز ہی میں ان ملک گیراحتجاجی مظاہروں پر قابو پالیا تھا۔

ایرانی حکومت نے ابھی تک ان پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوں کے کوئی سرکاری اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔البتہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کے ایک رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سات ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں سیکڑوں کو ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد رہا کردیا گیا تھا اور باقی سیکڑوں کے خلاف بدامنی، شورش اور بغاوت کے الزامات میں اب مقدمات چلائے جارہے ہیں۔