.

لیبیا کے راستے تیونس کو ترک اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی وزارتِ داخلہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کی سرحد پر تیونس کے حکام نے ترکی کے تیار کردہ اسلحے کی بھاری مقدار قبضے میں لے کر اسلحہ اور گولہ بارود کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونسی وزارت داخلہ کے ترجمان خالد الحیونی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لیبیا کے راستے ترکی کے اسلحے کی بھاری کھیپ تیونس منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم چار اور پانچ جنوری کو مدنین ریاست میں بنی خداش کے علاقے میں ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران ترکی کی ساختہ 35 رائفلیں اوردیگر ہتھیار برآمد کرلیے گئے۔ یہ اسلحہ تطاوین ریاست کے راستے وسطی ریاست القصرین کے فریانہ علاقے کی طرف بھیجا جا رہا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کی ترکی کے اسلحے کی پکڑی گئی پہلی کھیپ ہے۔

ترکی سے تیونس کو اسلحے کی غیرقانونی طور پرترسیل سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ترکی تیونس میں یہ اسلحہ کس گروپ کو پہنچا رہا ہے اور اس گروپ کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں؟۔

حال ہی میں ترکی کے صدر نے تیونس کا اچانک دورہ کیا اور تیونس کے ہم منصب قیس سعید سے ملاقات کی تھی۔ دونوں صدور نے لیبیا میں جاری لڑائی میں قومی وفاق حکومت کی حمایت کااعلان کیا تھا۔ ترک صدر کے دورہ تیونس پربھی تیونس کے سیاسی حلقوں کی طرف سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا تھا۔