.

ترک پارلیمان حز بِ اختلاف کی صدر ایردوآن پر تنقید کے بعد مچھلی منڈی میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے ایک رکن کی صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف تندوتیز تقریر کے بعد طرفین کے ارکان آپس میں گتھم گتھا ہوگئے اور ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔

حزبِ اختلاف کے رکن اینجین اوزکوچ نے قبل ازیں ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ صدر ایردوآن شام میں لڑائی میں مارے گئے ترک فوجیوں کا کوئی احترام نہیں کررہے ہیں۔آج انھوں نے پارلیمان میں بھی یہ بیان دہرایا ہے۔

ان کے اس بیان کے بعد حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے ارکان کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہوگئی ۔ وہ ایک دوسرے پر گھونسے چلانے لگ گئے،بعض ارکان تو ڈیسکوں کو پھلانگتے ہوئے مخالفین پر پل پڑے۔اس دوران میں طرفین کے بعض ارکان نے بیچ بچاؤ کرانے کی بھی کوشش کی ہے۔

حزب اختلاف ری پبلکن پیپلز پارٹی ( سی ایچ پی) سے تعلق رکھنے والے رکن اوزکوچ نے نیوزکانفرنس کے علاوہ اپنی بعض ٹویٹس میں بھی صدر ایردوآن پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں گذشتہ ہفتے اسدی فوج کے حملے میں مارے گئے ترک فوجیوں کی بے توقیری کی ہے۔

انھوں نے صدر پر غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ انھوں نے فضائی کور کے بغیر ترک فوجیوں کو شام میں میدان جنگ میں جھونک دیا ہے۔

پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ سیتنوپ نے حزب اختلاف کے رکن کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق انقرہ کے پراسیکیوٹر نے صدر کی مبیّنہ توہین کے الزام میں تحقیقات شروع کردی ہے۔