.

افغان طالبان کابل انتظامیہ کے 20 قیدی رہا کرنے پر تیار

رہائی پانے والے قیدیوں کو قندھار میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان حکومت کی جانب سے 100 قیدی رہا کیے جانے کے بعد افغان طالبان نے بھی کابل انتظامیہ کے 20 قیدی رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹویٹر پیغام میں بتایا: 'آج امارت اسلامیہ افغانستان، کابل انتظامیہ کے 20 قیدیوں کو رہا کرے گی اور انہیں قندھار میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی آر سی آر) کے حوالے کیا جائے گا۔'

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 8 اپریل کو کابل حکومت کی جانب سے افغان طالبان کے 100 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

انتیس [29] فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے گذشتہ کئی برسوں سے شورش کے شکار ملک افغانستان میں امن کی راہیں کھلیں گی۔

اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ نہ صرف امریکا مئی 2021 تک اپنی فوجوں کا انخلا کرے گا بلکہ افغان فریقین کے مابین مذاکرات سے پہلے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے طالبان کا تین رکنی تکنیکی وفد 31 مارچ کو کابل گیا تھا تاکہ وہاں پر قیدیوں کی پہچان اور ان کی رہائی کے حوالے سے افغانستان حکومت کے ساتھ بات کر سکے۔

تاہم بعد ازاں 7 اپریل کو طالبان نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے افغانستان حکومت کو 'غیر سنجیدہ' قرار دے کر اپنے تکنیکی وفد کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب افغان حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں طالبان جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دس دنوں میں قیدی رہا کروانا چاہتے ہیں۔

لیکن پھر طالبان کی جانب سے تکنیکی وفد واپس بلانے کے ایک ہی دن بعد (8 اپریل کو) افغانستان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔