سعودی عرب میں بدعنوانی کمیشن کا فوج داری کیس کی براہ راست تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ کمیشن نے جنرل کورٹ کے ایک جج کے ساتھ مل کر ایک کیس میں جج کی جانب سے رشوت وصولی کے مقدمہ کی براہ راست تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سعودی عرب کی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق ملزم جج کے خلاف دائر کردہ الزامات کی چھان بین کے بعد پتا چلا ہے کہ جج نے کرپشن کے ایک کیس میں اپنے بھائی کو جو کرنل کے عہدے کا افسر ہے ملزم کے ساتھ معاملات طے کرنے اور رشوت وصول کرنے کا اختیار دیا تھا۔ اس ملزم پر رشوت، کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات تھے۔ کرپشن کنٹرول کمیشن نے جج پر عہدے کے غلط استعمال اور بد انتظامی سمیت متعدد دیگرالزامات عاید کیے ہیں۔

سعودی عرب کے عدالتی قانون کی دفعہ 68 کے تحت جج کو سپریم جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کیس میں دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے تحقیقات اورتفتیش کے دوران اقبال جرم کیا ہے۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی جج کا مملکت میں اس نوعیت کا اقدام صرف انفرادی فعل ہے جسے سعودی عرب کے عدالتی نظام کا عکاس نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس نوعیت کے تمام کیسز میں ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی شخص کو اس کے عہدے ، اختیارات یا اثرو نفوذ سے ناجائز فایدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں