.

حزب اللہ پر پابندی:ایران کے سرکاری روزنامہ نے جرمن چانسلرمیرکل کوہٹلر قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکاری روزنامہ نے جرمنی کو لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے ردعمل میں جرمن چانسلر اینجیلا میرکل کو نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر کے مشابہ قرار دے دیا ہے۔

جرمنی نے گذشتہ جمعرات کو حزب اللہ کو ’’شیعہ دہشت گرد تنظیم ‘‘ قرار دے دیا تھا اور اس پر پابندی عاید کردی تھی۔جرمن پولیس اور خصوصی فورسز نے اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں حزب اللہ سے وابستہ مساجد اور تنظیموں کے خلاف چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں۔

ایران کے سرکاری روزنامہ وطنِ امروز میں ہفتے کے روز ’’ صہیونیت کے ملازم‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا ہے،اس میں میرکل کو ہٹلر قرار دیا گیا ہے۔یہ روزنامہ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ ہے۔

اس مضمون میں حزب اللہ کو خطے میں ایران کا سکیورٹی بازو قرار دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جرمنی کے فیصلے کے پیچھے امریکا کا ہاتھ کارفرما ہے اور اسی کے ایما پر جرمنی نے لبنانی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے:’’حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے اور اس کی سرگرمیوں پر قدغنوں کے ذریعے (امریکی صدر ڈونلڈ )ٹرمپ خطے میں ایران کے ایک سکیورٹی بازو کو کم زور کرنا چاہتے ہیں تاکہ آخرکار خود ایران کی قومی سلامتی کو کم زور کیا جاسکے۔‘‘

اس مضمون میں یہ دلیل دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حزب اللہ خطے میں سلامتی کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، امریکا اس کو کمزور کرکے دراصل خطے میں عدم استحکام اور بد امنی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ یہاں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرسکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے جرمنی کے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے لیکن فاضل مضمون نگار کا کہنا ہے کہ یہ مذمت کافی نہیں ہے،اس لیے اس نے ایران اور اس کے اتحادیوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ جرمن حکومت کو حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کا مزا چکھائیں اور اس کے فیصلے کی قیمت چکائیں۔