.

نیٹو لیبیا میں نیشنل آرمی کو طرابلس کی طرف پیش قدمی سے روکے:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی نیشنل آرمی نے دعویٰ‌کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے ہفتے کے روز ترکی کے تیار کردہ'عنقاء ایس' نامی چار ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔ یہ چاروں ڈرون طیارے الوطیہ ایئربیس کےقریب عقبہ بن نافع کے مقام پر گرائے گئے۔ دوسری طرف ترکی نے اپنے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ لیبیا کی نیشنل آرمی کو طرابلس پرقبضے کے لیے جاری پیش قدمی سے روکنے اور اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرے۔

لیبی فوج کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق فضائی دفاع نےدارالحکومت طرابلس سے 140 کلو میٹر دور اور تونس کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع الوطیہ فوجی اڈے کے قریب ترکی کےجنگی ڈرون مار گرائے۔ خیال رہے کہ یہ فوجی اڈہ ملک کے مغرب میں نیشنل آرمی کااہم ترین مرکز سمجھاجاتا ہے۔ لیبیا کی قومی وفاق حکومت اس فوجی اڈے پراپنا کنٹرول جمانے کے لیے ترکی کی فوجی مدد سے بار بار ناکام حملے کرچکی ہے۔ اگر اس فوجی اڈے پر ترکی نواز قومی وفاق حکومت کا قبضہ ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیشنل آرمی کی طرابلس کے لیے سپلائی لائن کٹ جائے گی۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں ترکی کےوزیر خارجہ نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبیا کی قومی فوج کی طرابلس کی طرف پیش قدمی روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

ترک وزیرخارجہ مولود جاووش اوگلو نے "A Haber" ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں‌کہا کہ جنرل خلیفہ حفتر کو طرابلس کی طرف بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے نیٹو ممالک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی پر الزام ہے کہ وہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو جنگجوئوں کے ساتھ ساتھ مالی اور عسکری مدد بھی فراہم کررہا ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر کے بعد سے اب تک انقرہ طرابلس کی قومی وفاق حکومت کو شام سے بھرتی کیے گئے8 ہزار جنگجو فراہم کرچکا ہے۔