.

ٹرمپ انتظامیہ نے چین کی فضائی کمپنیوں کی امریکا کے لیے مسافر پروازوں پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے چین کی فضائی کمپنیوں کی امریکاکے لیے مسافر پروازوں پر پابندی عاید کر دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ حکم بیجنگ کے اقدام کے ردعمل میں جاری کیا ہے جس کے تحت امریکی فضائی کمپنیوں کی چینی مارکیٹ میں داخلے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

امریکا کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ چینی پروازوں پر پابندی کا حکم 16 جون سے مؤثر العمل ہوگا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اس سے پہلے اس پر عمل درآمد چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام سے امریکا اور چین کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ان میں پہلے ہی دوطرفہ تجارت ،کرونا وائرس کی وبا اور ہانگ کانگ کے معاملے پر تنازع چل رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا امریکا مستثنیات کی پالیسی کے خاتمے کے لیے عمل شروع کرے گا،اس کے تحت ہانگ کانگ کے ساتھ چین کی مرکزی سرزمین سے علاحدہ سے معاملہ کیا جائے گا۔چین کی قیادت نے حال ہی میں ہانگ کانگ سے متعلق قومی سلامتی کا نیا قانون نافذ کیا ہے۔

بیجنگ نے امریکا کی فضائی کمپنیوں کو اپنی سروس میں توسیع سے روک دیا ہے جبکہ اس کی اپنی چار فضائی کمپنیوں نے کووِڈ-19 کی وبا پھیلنے کے بعد اپنی پروازوں کی آمد ورفت جاری رکھی ہوئی ہے۔

امریکا کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ '' چینی حکومت ہماری درخواست کی منظوری دینے میں ناکام رہی ہے اور اس کا فیصلہ ہمارے درمیان فضائی ٹرانسپورٹ کے سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ چین جتنی امریکی پروازیں چلانے کی اجازت دے گا،اس کی بھی اتنی پروازوں کو امریکا میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔اگر وہ ایک پرواز کی اجازت دے گا تو اس کو ایک ہی پرواز چلانے کی اجازت دی جائے گی۔

چین نے مئی میں امریکا کی دو فضائی کمپنیوں ڈیلٹا ائیر لائنز اور یونائیٹڈ ائیر ہولڈنگز کی پروازوں کی بحالی سے متعلق درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے چین پر غیر منصفانہ طور پر پروازوں کی بحالی کی کوشش میں رخنہ ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔