.

غلام رضا منصوری کو رومانیا میں قتل کیا گیا: مقتول ایرانی جج کے بھائی کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملک رومانیا میں ایک ہوٹل میں پراسرار طورپر فوت ہونے والے ایک ایرانی جج غلا رضا منصوری کے بھائی نے کہا ہے کہ جسٹس رضا منصوری نے خود کشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

ایران کی "برنا" نیوز ایجنسی کے مطابق مقتول ایرانی جج کے بھائی نے کہا کہ جسٹس غلام رضا منصوری نے اپنے خاندان کو بار بار تاکید کی تھی کہ ان کی جان خطرے میں ہے اور وہ محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کو یقین ہے کہ غلام رضا منصوری کی موت خود کشی نہیں بلکہ قتل کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ان کی موت کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ایران میں جسٹس منصوری کے قتل کے بعد ان کے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل امیر حسین نجف پور کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امیر حسین کے پاس جسٹس منصوری کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ امیر حسین یے ذرائع ابلاغ کو دیے گئے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ جسٹس منصوری کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں اور وہ غیر پیشہ وارانہ بیانات دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا سے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "فردا" ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے فرار ہونے والے جج غلام رضا منصوری کو رومانیا میں ایک ہوٹل کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔ رضا منصوری ایران سے فرار کے بعد رومانیا آگیا تھا جہاں وہ کچھ عرصے سے ایک ہوٹل میں رہائش پذیر تھا۔

ریڈیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی بدعنوانی میں ملوث ایرانی جج کی لاش اس کے ہوٹل کے کمرے کے باہر سے ملی ہے۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔۔

امریکی فارسی ریڈیو کےنامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ غلام رضا منصوری کو اس کے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینکا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ہے۔

رومانیہ کی پولیس کو گذشتہ روز بتایا گیا کہ ہوٹل کی بالائی منزل میں رہائش پذیر ایک مسافر کی لاش سڑک کے کنارے پڑی ہے۔ اگرچہ پولیس نے مقتول کی شناخت ظاہر نہیں کی مگر اس کی عمر باون سال بیان کی ہے۔

البتہ امریکی ریڈیو فردا نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رومانیا کے ایک ہوٹل میں پراسرار طورپر قتل ہونےوالا شخص ایران کا مفرور جج غلام رضا منصوری ہے۔ اسے گذشتہ ہفتے دارالحکومت بوخاست سے حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ مقتول نے خود کشی کی ہے یا اسے کمرے کی کھڑی سے باہر پھینکا گیا۔

غلام رضا منصوری کی موت ایک ایسے وقت میں واقع ہوئی ہے جب دوسری طرف سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کارکنوں نے اس کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات میں سخت قانونی کارروائی کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ مسٹر منصوری پر ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور صحافیوں کو ظالمانہ طریقے سے جیلوں میں قید کرنے کے احکامات صادر کرنے کا الزام ہے۔