.

امریکا کے بعد بیلجیم میں نسل پرستانہ بنیاد پرسیاہ فام گردن دبوچ کر قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ہفتے قبل امریکا میں پولیس نے ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے خلاف نسل پرستانہ کارروائی کرتے ہوئے فلائیڈ کو زمین پر گرانے کےبعد اس کی گردن دبوچ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے کے نتیجے میں امریکا بھر میں بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایسا ہی ایک واقعہ یورپی ملک بیلجیم میں پیش آیا ہے جہاں مقامی پولیس نے ایک الجزائری سیاہ فام تارک وطن کی گردن دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اس واقعے کے منظر عام پرآنے کے بعد بیلجیم میں قائم الجزائری سفارت خانے نے اس کی تحقییقات شروع کی ہیں‌۔

الجزائری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں‌بتایا کہ اعلی حکام بیلجیم میں الجزائری نوجوان عبدالرحمٰن قادری المعروف اکرم کی ہلاکت کی تحقیقات کررہے ہیں۔ انہوں نے برسلز میں سفارتخانے اور قونصل خانے کے جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ قتل کئے گئے نوجوان کے لواحقین کی مدد کریں۔

نسل پرستی کی بنیاد پر ایک الجزائری شہری کے قتل کے جرم نے انسانی حقوق کے علم بردار بیلجیم کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیلجیئم کی پولیس نے اس نوجوان کی پیٹھ اور گردن دبوچ کر ہلاک کرنے کے واقعے نے امریکا میں چند ہفتے قبل ایک سیاہ فام امریکی کے اسی طریقے کے ذریعے پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل کی یاد تازہ کردی ہے۔ عبدالرحمان قادری کے قتل کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی لوگوں‌ نے اسے امریکا میں نسل پرستی کے مجرمانہ قتل کی واردادت دہرانے کے مترادف قراردیا۔

ہفتے کے روز برسلز کے نواحی علاقے اینڈرلیچٹ میں مقتول کے لواحقین نے فرانزک رپورٹ کے بعد مقتول کی لاش حاصل کرلی ہے جسے منگل کے روز الجزائر میں دفن کیا جائے گا۔ مقتول کے اہل خانہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ قادری کو کرونا تھا۔

بیلجئیم حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے 29 سالہ عبدالرحمان قادری کی موت کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسے انٹویرپ میں ایک کیفے کے باہر کچھ لوگوں پر حملہ کرنے اور کیفے میں موجود سامان تباہ کرنے کی کوشش کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ الجزائر کے نوجوان کو زدو کوب کیے جانے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی۔

اس تناظر میں بیلجیئم پولیس کے ترجمان سوین لمارٹ نے کہا کہ الجزائری شہری کے قتل کے واقعے میں ایک ذمہ دار افسر کو طلب کیا گیا ہے جس نے انکشاف کیا کہ اکرم بہت پریشان اور نشے میں تھا۔ اس نے لوگوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

ہم نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی اور اسے زمین پر منہ کے بل گرا دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے خود زمین پر ٹکر مارنے کی کوشش کی تھی۔ وہاں‌سے اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں‌وہ دم توڑ گیا تھا۔

فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان اعصابی عوارض میں مبتلا تھا اور اس کے جسم میں نشہ آور چیزوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔، لیکن العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اکرام کی والدہ نے اس حادثے کے بعد بتایا کہ اس کے بیٹے کے سر پر تشدد کے نشانات ہیں۔ اسے مارا پیٹا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ مقتول کے لواحقین نے بیلجیم پولیس کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے اکرم کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے۔