.

امریکا کا حماس، القاعدہ اور داعش کے مالیاتی نیٹ ورک پکڑنے اور بھاری رقوم ضبط کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ انصاف نے فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' ، القاعدہ ، اور 'داعش' کے فوجی ونگ کو نشانہ بناتے ہوئے ان گروپوں‌ کے لیے ہونے والی"فنانسنگ مہم" ناکام بناتے ہوئے بھاری رقوم ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارت انصاف نے بیرون ملک واقع انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے کریپٹوکرنسی اکاؤنٹس سے لاکھوں ڈالر ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ رقوم داعش ، القاعدہ اور حماس کے ملٹری ونگ کو منتقل کی جا رہی تھیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ عسکریت پسند گروپوں نے فنڈز کی وصولی کے لیے بنک اکاؤنٹس کا استعمال کیا ہے۔ عسکریت پسند گروں کے مالی معاونت کار کرونا وائرس وبائی امراض کے خلاف حفاظتی کٹس فروخت کرنے کا دعوی کر رہے ہیں۔

عہدیداروں نے اس کارروائی کو دہشت گردی سے وابستہ ڈیجیٹل کرنسی کے پیسوں میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق اس اقدام کا مقصد شدت پسند تنظیموں کو اسلحہ خریدنے اور جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لئے درکار فنڈز سے محروم کرنا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے لاکھوں ڈالر ، 300 سے زیادہ کریپٹو کرنسی اکاؤنٹس اور چار ویب سائٹ ضبط کیں۔ توقع ہے کہ ضبط شدہ فنڈز دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کے فنڈ میں منتقل کر دیئے جائیں گے۔