.

کویت : سرکاری ملازمین کے ویزوں کی تبدیلی پر نئی تحدیدات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت نے سرکاری ملازمین کے ویزوں کی نجی شعبے میں منتقلی پر پابندی سے متعلق نئے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔اتھارٹی نے اس کے علاوہ منحصر یا طفیلی ویزوں کی نجی شعبے میں کام کے ویزوں میں تبدیلی پر بھی قدغنیں لگا دی ہیں۔

کویت ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کے ویزوں کی نجی شعبے میں تبدیلی پر پابندی کے فیصلے سے بعض لوگ مستثنیٰ ہوں گے۔ان میں کویتی خواتین کے شوہر اور ان کے بچّے ، کویتیوں کی بیویاں ،کارآمد سفری دستاویزات کے حامل فلسطینی اور شعبہ طب میں کام کرنے والے ڈاکٹر حضرات اور نرسیں شامل ہیں۔

کویتی حکام ملک میں تارکین وطن مزدوروں کی تعداد کم کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کررہے ہیں اور یہ اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔کویت کی قومی اسمبلی نے ہفتے کے روز تارکینِ وطن کی تعداد کو محدود کرنے کے لیے ایک مسودۂ قانون تیار کرنے کی اطلاع دی تھی۔

اس قانون کے تحت ویزے کی بعض اقسام کی منتقلی پر بھی پابندی عاید کردی جائے گی۔اس نفاذ کے بعد چھے ماہ کے اندر کویت میں تارکینِ وطن کی زیادہ سے زیادہ تعداد کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اس ضمن میں مقامی آبادی سے تارکین وطن ورکروں کی تعداد کا موازنہ کیا جائے گا۔

نئے بل کے تحت دس مختلف زمروں میں کام کرنے والے ورکروں کو کوٹا سسٹم سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔ان میں گھروں میں کام کرنے والے معاونین (نوکر) ،طبّی عملہ ، معلمین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے شہری شامل ہیں۔

نئے مجوزہ قانون کے تحت ویزوں کی بعض قسموں اور ان کے اجراء کے موجودہ طریق کار پر بھی پابندی عاید کردی جائے گی۔وزٹ ویزوں کی کام کے ویزوں میں تبدیلی پر پابندی ہوگی۔اسی طرح گھروں میں کام کرنے والے نوکروں کے ویزوں کو پرائیویٹ یا تیل کے شعبوں میں کام کرنے کے ویزوں میں تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔

گذشتہ ہفتے کویت نے 60 سال سے زیادہ عمر کے تارکین وطن کو کام کے لیے اقامے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہ رکھنے والوں کو 31 اگست کے بعد اقامہ یا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کو ان کے آبائی ممالک میں بھیجنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کویتی حکومت اور قومی اسمبلی دونوں متفقہ طور پرطویل المیعاد اور قلیل المیعاد اقدامات پر غور کررہے ہیں۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکومت ملک سے ایک لاکھ 20 ہزار غیر قانونی غیرملکی ورکروں اور 60 سال سے زاید عمر کے تارکینِ وطن کو بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ان میں ملازمین ،دوسروں کے زیرکفالت افراد اور دائمی امراض کا شکار مریض شامل ہیں۔ واضح رہے کہ کویت میں تارکین وطن کل ملکی آبادی کا قریباً 70 فی صد ہیں۔